اقوام متحدہ، 17 ستمبر (اے پی پی ): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے افغانستان پر سلامتی کونسل اجلاس میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی عدم شمولیت اور شدید معاشی دباؤ پر عالمی برادری کو گہری تشویش ہے، افغانستان ایک بار پھر متعدد دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے، جو افغان سرزمین سے بلاخوف و خطر سرگرم ہیں۔
افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کے نتیجے میں گزشتہ تین برس کے دوران 4,700 سے زائد بے گناہ پاکستانی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، پاکستان دہشت گردی کے اس یلغار کے سامنے خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع میں جواب دیں گے،جو بھی ہمارے شہریوں اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا، پاکستان اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔
افغانستان میں دہشت گردی کے مسئلے کی جڑیں طالبان اور ٹی ٹی پی، داعش خراسان، بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے درمیان گہرے روابط میں پیوست ہیں،افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور انہیں حاصل بیرونی معاونت خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ افغانستان میں موجود جدید ہتھیار، ڈرونز اور اربوں ڈالر مالیت کا چھوڑا گیا اسلحہ خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ افغانستان کی غیر قانونی معیشت، ہنڈی اور حوالہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کرتی ہے،افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں بنیادی آزادیوں اور انسانی وقار سے محرومی کا باعث بن رہی ہیں۔
سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان نے پانچ سال قبل طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھیں۔ طالبان کی بعض پالیسیوں پر تحفظات کے باوجود پاکستان نے افغانستان تک بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی۔ رپورٹنگ کی مدت کے دوران پاکستان کے راستے کم از کم 687 انسانی امداد سے لدے ٹرک افغانستان میں داخل ہوئے، گزشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصے میں پاکستان نے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی، عالمی برادری کو بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔ پاکستان آج بھی ہزاروں کمزور اور خطرے سے دوچار افغان شہریوں کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کر رہا ہے۔ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام پاکستان کے قومی مفاد میں ہے، خطے کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔ طالبان کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔











