کوئٹہ: 30 ستمبر (اے پی پی ) حکومتی و اپوزیشن ارکان اسمبلی، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک میں انتہاپسندی اور تشدد کے رجحانات کی روک تھام کیلئے پالیسی کے ساتھ مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے، تمام مکاتبِ فکر کو مکالمے میں شامل کرنے، تعلیم، گڈ گورننس اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کی ضرورت ہے۔ دہشتگردی کے بنیادی اسباب تک پہنچ کر طویل المدتی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا جبکہ اس عمل میں میڈیا بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی، رکن بلوچستان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی، رکن اسمبلی شاہدہ رؤف، سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ شیر شاہ غلزئی، صوبائی محتسب برائے انسداد ہراسیت طاہرہ بلوچ، بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے چیف کوآرڈینیشن آفیسر ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ، اسپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ عبدالسلام اچکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری کالجز عبدالمالک اچکزئی، ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر عنایت اللہ کاسی، ایڈیشنل سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان امجد حسین شاہ اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد بلوچ نے بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کے زیر اہتمام ارکان اسمبلی کے ساتھ پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ بلوچستان سینٹر آف ایکسیلنس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم کی جانب سے آگاہی کا اقدام خوش آئند ہے۔ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور ہمارے معاشرے میں انتہاپسندی موجود ہے، اس لیے ایک پاکستانی کی حیثیت سے دہشتگردی کی واضح وضاحت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسی ڈائیلاگ کو مزید وسعت دے کر عام لوگوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور اس میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو شامل کیا جانا چاہیے۔ پالیسی کے ساتھ مؤثر حکمت عملی بھی بنانا ہوگی تاکہ دہشتگردی کے فوری چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ طویل المدتی بنیادوں پر بھی کام جاری رکھا جاسکے۔ میڈیا اس پالیسی اور حکمت عملی کو عوام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ معاشرے میں انتہاپسندی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ پہلے سنتے تھے استاد نے شاگرد کو مارا، اب شاگرد اساتذہ کو مارنے لگے ہیں ۔ انتہاپسندی اور تشدد کے رجحانات کی روک تھام کیلئے معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
رکن بلوچستان اسمبلی انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ تشدد کی مختلف اقسام ہیں ، یہ میاں بیوی، بھائی بھائی یا عام شہریوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے جبکہ ایک قسم دہشتگردی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دہشتگردی کے پیچھے بنیادی عوامل اور اس کی جڑ کیا ہے۔رکن بلوچستان اسمبلی شاہدہ رؤف نے کہا کہ ہم دہشتگردی کا سامنا کررہے ہیں ، جس پر کائنیٹک اور نان کائنیٹک اپروچ کے ذریعے قابو پایا جاسکتا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ پائیدار اقدامات بھی ضروری ہیں ۔ مرض کی تشخیص کے بعد اس کی جڑ تک پہنچنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ قانون سازی کے ساتھ موجود خامیوں کو دور کرنے اور گڈ گورننس کے ذریعے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔
سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ شیر شاہ غلزئی نے کہا کہ انتہاپسندی کے تدارک میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ تعلیم پر توجہ دینے کے ساتھ والدین کو بچوں کی بہتر تربیت اور معاشرے کے رجحانات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ خواتین کیلئے کاروباری مواقع بڑھانے کیلئے وومن انڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے جس سے متعدد خواتین نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے۔ وسائل کی فراہمی سے شہریوں کو ملک کی بہتری اور بقا کیلئے کردار ادا کرنے کے مزید مواقع ملیں گے۔
اسپیشل سیکرٹری محکمہ داخلہ عبدالسلام اچکزئی نے کہا کہ میڈیا مختلف مسائل کی نشاندہی کرتا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے میڈیا کی نشاندہی کو معاونت کے طور پر لینا چاہیے۔ کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کیلئے سنجیدہ اقدامات وقت کی ضرورت ہیں ۔ ہمیں پاکستانیت کو فروغ دینے کی کوشش کرنی چاہیے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری کالجز عبدالمالک اچکزئی نے کہا کہ تشدد کی روک تھام کسی ایک فرد یا ادارے کا کام نہیں بلکہ اس کیلئے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ مختلف فورمز سمیت تعلیمی اداروں کی سطح پر بھی مکالمے کا سلسلہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر عنایت اللہ کاسی اور ایڈیشنل سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان امجد حسین شاہ نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ یوتھ ریسورس سینٹر کی فعالیت نوجوانوں کیلئے ایک بہترین موقع ہے، جبکہ امن و امان کے قیام سے نوجوانوں کیلئے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد بلوچ نے کہا کہ میڈیا اب سائنسز میں تبدیل ہوچکا ہے اور اس کے اثرات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔ دنیا میں بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود یا ممنوع قرار دینے کے حوالے سے اقدامات کیے جارہے ہیں ، ہمیں بھی اس پہلو پر غور کرنا چاہیے۔
مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ انتہاپسندی اور تشدد کے خاتمے کیلئے حکومتی اداروں ، سیاسی قیادت، تعلیمی اداروں ، میڈیا، سول سوسائٹی، والدین اور نوجوانوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ طور پر کردار ادا کرنا ہوگا۔











