ستمبر 1965ء کی جنگ کا چوتھا روز: سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف شہید (نشانِ حیدر) کا ستارۂ جرات والا کارنامہ

4

راولپنڈی، 04 ستمبر (اے پی پی): ستمبر 1965ء کی جنگ کے چوتھے روز پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ نے دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب دیتے ہوئے دفاعِ وطن کے عزم کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب بھارت کی جانب سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا اور بھارتی وزیرِ اطلاعات و نشریات اندرا گاندھی نے دھمکی دی کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو طاقت کے ذریعے ایک ہی بار حل کرے گا۔ اس کے برعکس چینی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کھلی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار   ”پیپلز ڈیلی”  نے لکھا کہ بھارتی افواج کی پاکستانی سرزمین میں جبری مداخلت پر پاکستان کی مسلح افواج نے اپنے دفاع میں بھارتی فوج کو لائن آف کنٹرول سے پیچھے دھکیل دیا۔

صورتحال کے پیشِ نظر جی ایچ کیو (GHQ) نے تمام فارمیشنز کو بھارت کے خلاف فوری دفاعی اقدامات کا حکم دے دیا۔ چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل افضل رحمان خان نے پاک بحریہ کے تمام جہازوں کو سمندری حدود میں دفاعی پوزیشنز سنبھالنے کی ہدایت کی، جبکہ بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والی آبدوز پی این ایس غازی کو الرٹ کر دیا گیا۔ پی این ایس غازی کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ بھارتی بحری جہازوں ‘آئی این ایس میسور’ اور”آئی این ایس دہلی” سے لاحق خطرات کا رخ موڑے۔ اسی اثنا میں پاکستان ایئر فورس نے بھی بھارتی فضائیہ کی جانب سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش ناکام بنا دی۔

جوڑیاں سیکٹر میں 6 فرنٹیئر فورس (FF) رجمنٹ کی ایک پلاٹون نے سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف (شہید) کی سربراہی میں تروٹی کے مقام پر اہم بھارتی مورچے پر حملہ کیا۔ یہ انتہائی سخت معرکہ تھا جس کے نتیجے میں کئی جوان شہید و زخمی ہوئے۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو بھارتی افواج کے نرغے سے نکالا، انہیں دوبارہ منظم کر کے حملہ کیا اور اپنے 6 شہداء کے جسدِ خاکی اور 15 زخمیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

انہوں نے تیسری بار حملہ کر کے دشمن کی آرٹلری گن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس بے مثال قیادت، شجاعت اور جنگی صلاحیت کے اعتراف میں سیکنڈ لیفٹیننٹ شبیر شریف کو ”ستارۂ جرات” سے نوازا گیا۔