کراچی۔4ستمبر (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے وفاقی اردو یونیورسٹی آف آرٹس، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے حالیہ سنڈیکیٹ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو قانونی حیثیت سے محروم قرار دیتے ہوئے یونیورسٹی کے انتظامی، مالی اور حکمرانی کے معاملات کی نگرانی کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔سینیٹر بشریٰ انجم بٹ کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی کا اجلاس گورنر ہائوس کراچی میں منعقد ہوا جس میں یونیورسٹی کے ملازمین کو تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی، تدریسی و غیر تدریسی عملے کی تفصیلات، سنڈیکیٹ کی تشکیل، دستیاب فنڈز اور واجب الادا تنخواہوں و پنشنز سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔
چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ فنڈز کے اجراء سے قبل یونیورسٹی کو اپنے انتظامی معاملات اور داخلی نظام کو درست کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں سنڈیکیٹ اور سینیٹ جیسے فورمز انتظامیہ اور نظم و نسق پر نگرانی اور احتساب کے لیے قائم کیے گئے ہیں تاہم ان کے غیر فعال ہونے کی صورت میں ہر مسئلے کا ذمہ دار حکومت کو قرار نہیں دیا جاسکتا۔اجلاس میں طلبہ کی تعداد میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ سینیٹر خالدہ عطیب نے کہا کہ یونیورسٹی میں طلبہ کی تعداد 2024-25 میں 17 ہزار 58، 2025-26 میں 16 ہزار 654 اور 2026-27 میں 16 ہزار 259 رہ گئی ہے۔وائس چانسلر ضابطہ شنواری نے بتایا کہ گزشتہ دو سال کے دوران ملک بھر میں بنیادی سائنسز کے شعبوں میں داخلوں میں تقریباً 12 فیصد کمی ہوئی ہے اور طلبہ بوٹنی، زوآلوجی، جغرافیہ اور ماحولیات جیسے شعبوں میں کم داخلہ لے رہے ہیں۔
یونیورسٹی کی مالی صورتحال کے حوالے سے وائس چانسلر نے بتایا کہ فنڈز میں 10 فیصد جبکہ تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سال کے دوران یونیورسٹی کی گرانٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا جبکہ تنخواہوں اور دیگر اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق دو سال قبل یونیورسٹی کے ذمہ واجب الادا رقم تقریباً دو ارب روپے تھی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تین وفاقی جامعات کے لیے بیل آئوٹ پیکیج منظور کیا گیا تھا تاہم وفاقی اردو یونیورسٹی کو مطلوبہ فنڈز نہیں مل سکے۔ وفاقی وزارت تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ یونیورسٹی نے 2002ء سے قبل کے ملازمین کے حوالے سے اپنے دعوے کی حمایت میں ضروری دستاویزات فراہم نہیں کیں جس کے باعث فنڈز کے معاملے میں مشکلات پیش آئیں۔ سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ یونیورسٹی کی آمدنی اور اخراجات میں نمایاں فرق ہے جبکہ بعض ملازمین کو قواعد و ضوابط کے بغیر بھرتی کیے جانے سے تنخواہوں کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ 500 غیر تدریسی ملازمین کو بغیر اشتہار کے بھرتی کیا گیا تھا۔
چیئرپرسن قائمہ کمیٹی نے وائس چانسلر کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں یونیورسٹی میں ہونے والی تمام بھرتیوں کی تفصیلات، متعلقہ اشتہارات اور دیگر ضروری دستاویزات پیش کی جائیں۔سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ 2017ء کے بعد سے ریٹائر ہونے والے متعدد ملازمین کے واجبات ادا نہیں کیے گئے جبکہ اساتذہ کی ترقیاں بھی زیر التواء ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے سینیٹ اور سنڈیکیٹ کے فعال کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کی جائے۔ اجلاس میں یونیورسٹی سینیٹ اور سنڈیکیٹ کی تشکیل اور ان کے اجلاسوں کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ یونیورسٹی کے اہم فیصلے سینیٹ کے ذریعے کیے جاتے ہیں جس کے 17 ارکان ہیں اور اجلاس کے لیے کم از کم 9 ارکان کی موجودگی ضروری ہے۔چیئرپرسن بشریٰ انجم بٹ نے کہا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے متعدد مسائل صرف فنڈز کی کمی سے متعلق نہیں بلکہ موثر انتظامی نظام کی عدم موجودگی سے بھی وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے مسائل کے حل کے لیے قائم کی جانے والی سینیٹ ذیلی کمیٹی میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کا نمائندہ بھی شامل ہوگا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر مسرور احسن، سینیٹر وقار مہدی، سینیٹر اشرف علی جتوئی، سینیٹر سرمد علی، سینیٹر خالدہ عطیب نے آن لائن شرکت کی جبکہ چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد، وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی ضابطہ شنواری اور وفاقی وزارت تعلیم کے ایڈیشنل سیکرٹری بھی شریک ہوئے۔











