راولپنڈی،27ستمبر (اے پی پی):افغان طالبان حکومت بھارت کی حمایت اور سرپرستی میں پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے جو قیمتی جانوں کے مسلسل ضیاع اور امن و استحکام کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے، پاکستانی خفیہ اداروں نے کوئٹہ کے ضلع شابان کے علاقے میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے متعدد ٹھکانوں کی نشاندہی کی جو مقامی آبادی کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے۔
پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر 21 ستمبر 2026 کو زیارت اور گردونواح کے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف تیز رفتار آپریشن کا آغاز کیا ہے۔آپریشن شابان کے دوران سکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے آمنا سامنا ہوا اور انہوں نے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں اب تک بھارت کے حمایت یافتہ 33 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران آپریشن میں تیزی لائی گئی جس کے نتیجے میں مزید 23 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ۔ سکیورٹی فورسز نے ایک وسیع علاقے کو کلیئر کرایا اور مقامی آبادی کو فتنہ الخوارج اور ‘فتنہ الہندوستان کے خطرے سے نجات دلائی ہے۔ یہ کلیئرنس آپریشن خطرے کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق 25 ستمبر 2026 کو ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے ایک اور آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا اور بھارت کے حمایت یافتہ 11 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اسی طرح مند کے علاقے میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہند کے 6 دہشت گردوں کو کامیابی سے ہلاک اور بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا۔پاک فوج کے جاری آپریشن کے تحت گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران آپریشن شابان اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں جس سے بھارت کے حمایت یافتہ افغان آلہ کاروں کو شدید دھچکا لگا ہے۔نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ “عزمِ استحکام” کے وژن کے تحت دہشت گردی کے خلاف مہم پورے عزم کے ساتھ جاری رہے گی۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے غیر ملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔











