میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ 20 ستمبر کو منعقد ہوگا, امتحانی عمل کو مزید بہتر اور محفوظ بنایا گیا ہےوفاقی وزیر صحت کی پریس کانفرنس

2

اسلام آباد۔16ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ رواں سال میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز ایڈمیشن ٹیسٹ ستمبر 2026 کو ملک بھر میں منعقد ہوگا۔

بدھ کوپریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ رواں سال ایم ڈی کیٹ کے لیے ملک بھر میں 34 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں جبکہ ریاض، سعودی عرب میں ایک بین الاقوامی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ایک لاکھ 38 ہزار 160 امیدواروں نے امتحان کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس ایم ڈی کیٹ کے حوالے سے ایک بھی شکایت سامنے نہیں آئی تھی،  رواں سال امتحانی عمل کو مزید بہتر اور محفوظ بنایا گیا ہے۔وفاقی وزیر صحت کے مطابق رواں سال 8 ہزار سوالات پر مشتمل سوالاتی بینک تیار کیا گیا ہے۔

 اس مقصد کے لیے ملک بھر سے تقریباً 80 ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں، جنہوں نے تقریباً دو ماہ تک سکیورٹی کے خصوصی انتظامات میں سوالات تیار کیے۔انہوں نے بتایا کہ 8 ہزار سوالات میں سے ہر صوبے کو 180، 180 سوالات پر مشتمل دو الگ الگ پیپرز فراہم کیے گئے ہیں، جن میں سے متعلقہ صوبے اور میڈیکل یونیورسٹیاں امتحانی پرچہ تیار کریں گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں پورے پاکستان کے لیے ایک ہی پیپر ہوتا تھا، جس کی وجہ سے کسی ایک مقام پر پرچہ لیک ہونے کی صورت میں پورے ملک کا امتحان متاثر ہونے کا خدشہ رہتا تھا۔ اس خدشے کو دور کرنے کے لیے اس مرتبہ ہر صوبے کو الگ الگ پیپرز فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ امیدواروں کی رجسٹریشن اور سوالات کے  بینک کی فراہمی تک پی ایم اینڈ ڈی سی اپنی ذمہ داریاں مکمل کر چکا ہے، جبکہ اب امتحان کے انعقاد، پرچوں کی طباعت، محفوظ تحویل، ترسیل، امتحان کے انعقاد اور نتائج کے اعلان سمیت دیگر انتظامات متعلقہ صوبوں اور نامزد میڈیکل یونیورسٹیوں کی ذمہ داری ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزارت صحت اور پی ایم اینڈ ڈی سی امتحانی عمل کی نگرانی اور مانیٹرنگ کی ذمہ داری پوری کریں گے اور کسی احتجاج یا دیگر مسئلے کی صورت میں صوبوں اور متعلقہ یونیورسٹیوں کے سربراہان سے رابطے میں رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے طلبہ کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ انٹرنیٹ کے مسائل کے پیش نظر وہاں طلبہ کو ہارڈ کاپی کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے جبکہ آزاد کشمیر کے علاوہ اسلام آباد میں بھی ان طلبہ کے لیے خصوصی امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وزیراعظم نے بھی ایم ڈی کیٹ کے انعقاد میں مکمل راز داری، سکیورٹی اور شفافیت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ یونیورسٹیوں کو امتحانی پرچوں کا پری ہاک اینالیسس (Pre-hoc Analysis) بھی یقینی بنانا ہوگا تاکہ غلط، ناقص یا مشکوک سوالات امتحانی پرچے کا حصہ نہ بنیں۔سید مصطفیٰ کمال کے مطابق اگر امتحانی پرچہ لیک ہوتا ہے یا شفافیت کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے تو متعلقہ یونیورسٹی کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں پی ایم اینڈ ڈی سی امتحان منعقد کرنے والی یونیورسٹی کی بقیہ 50 فیصد ادائیگی روکنے یا بطور جرمانہ ضبط کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ غفلت یا غیر ذمہ داری کی صورت میں متعلقہ یونیورسٹی کے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف مناسب تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ متعلقہ یونیورسٹی کو آئندہ ایم ڈی کیٹ منعقد کرنے سے بھی نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔میڈیکل کالجز میں داخلوں اور نشستوں کے حوالے سے وفاقی وزیر صحت نے بتایا کہ اس سال میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے مجموعی طور پر 22 ہزار نشستیں دستیاب ہیں۔ انہوں نے سال میں دو مرتبہ ایم ڈی کیٹ منعقد کرنے کی تجویز کے حوالے سے کہا کہ یہ تجویز قابلِ عمل نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس تقریباً 300 نشستیں خالی رہ گئی تھیں۔ ان کے مطابق فیسوں کی وجہ سے نشستیں خالی رہ جانے کے حوالے سے سامنے آنے والی بات میں صداقت نہیں۔وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ نجی طبی اداروں میں معیاری تعلیم کی کمی سے متعلق شکایات سامنے آتی رہی ہیں اور پی ایم اینڈ ڈی سی اس معاملے پر سخت اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جن غیر ملکی طلبہ یا افراد کے پاکستان میں قیام سے متعلق دستاویزات مکمل نہیں ہیں، انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی میں صرف افغان طلبہ شامل نہیں بلکہ دیگر ممالک کے طلبہ، انجینئرنگ کے طلبہ اور پاکستان میں کام کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔