وزیرِ خزانہ کی اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام “کلائمیٹ فنانس پر سلوشنز ڈائیلاگ” میں شرکت، پاکستان کی موسمیاتی صورتحال اور مالیاتی حکمتِ عملی پر اظہارِ خیال

5

نیویارک، 23 ستمبر (اے پی پی ): وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے 81ویں اجلاسِ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے اپنے دورۂ نیویارک کے دوران اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام “کلائمیٹ فنانس پر سلوشنز ڈائیلاگ” سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کی شدید حساسیت اور خطرات کو اجاگر کیا۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ قابلِ اعتماد موسمیاتی موافقت اور آفات سے نمٹنے کے فریم ورک،ابتدائی انتباہی نظام، موسمیاتی حکمتِ عملیاں اور قابلِ عمل منصوبوں کی پائپ لائن تشکیل دے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا آغاز ملکی معاشی استحکام، مناسب مالیاتی گنجائش اور بیرونی مالیاتی بفرز سے ہونا چاہیے، جبکہ بین الاقوامی معاونت قومی وسائل کی تکمیل کرے۔

انہوں نے پاکستان کی متنوع مالیاتی حکمتِ عملی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس میں ملکی وسائل کے ساتھ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی سے معاونت، گرین انسٹرومنٹس کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس تک رسائی اور نجی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری شامل ہے۔

وزیرِ خزانہ نے لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا اور گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ منظوری، ایکریڈیٹیشن اور فنڈز کی فراہمی کے طریقۂ کار کو آسان بنائیں تاکہ موسمیاتی خطرات سے دوچار ممالک کو کلائمیٹ فنانس تک زیادہ مؤثر اور تیز رفتار رسائی حاصل ہو سکے۔