وفاقی وزیر احسن اقبال کی گلگت بلتستان میں توانائی اور سیاحت کے منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت

0

اسلام آباد، 02ستمبر(اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے، توانائی کی ضروریات پوری کرنے، سیاحت کے فروغ اور ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتاری سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعظم کی جانب سے گلگت بلتستان کے ترقیاتی امور کے جائزے اور قابلِ عمل سفارشات کی تیاری کے لیے قائم کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور خطے کی معاشی استعداد سے بھرپور استفادہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین زہیر، گلگت بلتستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جبکہ وفاقی و گلگت بلتستان حکومت کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان میں توانائی کے شعبے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نلتر اور ہنزل پاور پراجیکٹس پر کام تیزی سے جاری ہے اور دونوں منصوبوں کی تکمیل سے خطے میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان میں مختلف مقامات پر سولر فوٹو وولٹائک پلانٹس کے منصوبے پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے منصوبے کو خطے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے میں چھتوں اور مختلف مقامات پر سولر تنصیبات کے ساتھ ٹرانسمیشن لائنز اور رسائی کی سڑکیں بھی شامل ہیں۔ پروفیسر احسن اقبال نے ہدایت کی کہ وفاقی اور گلگت بلتستان حکومت کے حصے کے کام بیک وقت آگے بڑھائے جائیں تاکہ منصوبے کے ثمرات جلد عوام تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے گلگت بلتستان حکومت کو اپنے دائرہ کار میں آنے والی سڑکوں اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر پر فوری کام شروع کرنے کی ہدایت بھی کی۔

وفاقی وزیر نے منصوبے کے معیار اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا عمل بھی منصوبے کے ساتھ ساتھ جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مربوط انداز میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری انتظامی امور تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ اور خطے کے قدرتی ماحول کے تحفظ سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے وسیع امکانات کو پائیدار بنیادوں پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے، جس سے مقامی معیشت اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے گلگت بلتستان حکومت کو سیاحت کے شعبے کے لیے مناسب ٹیکس اور ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت کی تاکہ سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدن میں اضافہ ہو اور اس شعبے کی ترقی ماحول دوست اور پائیدار انداز میں جاری رہے۔

وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان میں سیاحت کی گنجائش اور قدرتی ماحول کی استعداد کے تعین کے لیے جامع کیریئنگ کیپسٹی اسٹڈی کرانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزارت موسمیاتی تبدیلی اور گلگت بلتستان حکومت پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دینے کی تجویز دی، جس میں متعلقہ ماہرین اور اداروں، بشمول آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، کی معاونت حاصل کی جائے گی۔

اجلاس میں گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالیاتی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقیاتی ضروریات کو مؤثر انداز میں پورا کرنے کے لیے پائیدار مالیاتی فریم ورک ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے صوبوں کی طرز پر مناسب مالیاتی انتظام کے حوالے سے وزیراعظم کو سفارشات پیش کی جا چکی ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی ترقی کے لیے منصفانہ اور پائیدار مالیاتی انتظامات پر غور جاری ہے جبکہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ کی تکمیل تک فوری ترقیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل مالیاتی انتظامات کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔

اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے ہدایت کی کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور سفارشات کو مقررہ مدت کے اندر عبوری رپورٹ کی صورت میں مرتب کیا جائے تاکہ متعلقہ وزارتیں، محکمے اور گلگت بلتستان حکومت ضروری انتظامی، پالیسی اور ترقیاتی اقدامات کو تیزی سے آگے بڑھا سکیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مربوط ادارہ جاتی تعاون، مؤثر پالیسی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں پر تیز رفتار عملدرآمد کے ذریعے خطے میں ترقی اور خوشحالی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔