پاکستان کی میزبانی میں سلامتی کونسل کے آریا فارمولہ اجلاس میں بین الاقوامی قانون کے یکساں اور عالمگیر اطلاق پر زور

4

اقوام متحدہ، 17 ستمبر (اے پی پی): سلامتی کونسل کے آریا فارمولہ اجلاس سے خطاب کرنے والے مختلف وفود نے مسلح تنازعات کی صورتحال میں بین الاقوامی قانون کے مستقل، یکساں اور عالمگیر اطلاق پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کا انحصار محض اصول وضع کرنے یا قراردادیں منظور کرنے پر نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد، شہریوں کے تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور تنازعات کے پُرامن حل کو یقینی بنانے پر ہے۔ مقررین نے بین الاقوامی قانون کے اطلاق میں یکسانیت اور عالمگیریت کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا آریا فارمولہ اجلاس ‘‘مسلح تنازعات کی صورتحال میں بین الاقوامی قانون کی پاسداری’’ کے موضوع پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس میں سلامتی کونسل کے 10 منتخب اور 5 مستقل ارکان سمیت اقوام متحدہ کی وسیع رکنیت نے شرکت کی۔

اجلاس میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (او سی ایچ اے)، انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (آئی سی آر سی)، انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) اور ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس کے نمائندوں نے بریفنگز دیں۔ مقررین نے بین الاقوامی قانون کی عدم پاسداری کے انسانی اثرات اور شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی رسائی، احتساب اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں پر مؤثر عمل درآمد کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر پاکستان کا بیان پیش کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور ان پر عمل درآمد کے درمیان موجود مستقل خلا کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنگ کا پہلا شکار خود بین الاقوامی قانون ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی قانونی نظام کی حقیقی کسوٹی یہ ہے کہ آیا جنگ چھڑنے کے وقت اس کے قوانین انسانوں کا تحفظ کرتے ہیں، طاقتور فریقوں کو پابند کرتے ہیں اور جغرافیہ، سیاست یا شناخت سے قطع نظر یکساں طور پر نافذ ہوتے ہیں۔

مستقل مندوب نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں (او پی ٹی) اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (آئی آئی او جے کے) کی صورتحال کو بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور سلامتی کونسل کی ساکھ کے لیے مسلسل ایک کسوٹی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں وسیع پیمانے پر تباہی، بے دخلی اور محرومی نے ایک پورے معاشرے کو تباہ حال کر دیا ہے اور کہیں بھی بین الاقوامی قانونی نظام کی ساکھ کو اتنی تکلیف دہ آزمائش کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا غزہ میں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ اس امر کی کسوٹی ہے کہ آیا بین الاقوامی انسانی قانون (آئی ایچ ایل) کے بنیادی اصول یکساں اور بلااستثنیٰ نافذ ہوتے ہیں یا نہیں۔

اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فلسطینی عوام کو آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے، حقِ خودارادیت استعمال کرنے اور 1967 سے قبل کی سرحدوں پر، القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے، اپنی آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح، بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی المناک صورتحال بھی بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور اس کونسل کی ساکھ کے لیے ایک مسلسل کسوٹی بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ تقریباً 8 دہائیاں قبل سلامتی کونسل نے ایک درجن سے زائد قراردادوں کے ذریعے مسئلہ جموں و کشمیر کے پُرامن حل کے لیے ایک راستہ متعین کیا تھا، جس کے تحت اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانب دارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات معلوم کی جانی تھیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ وعدہ آج بھی تشنۂ تکمیل ہے جبکہ بھارتی قابض افواج کے مظالم میں شدت آتی گئی ہے۔ انہوں نے 2018 اور 2019 کی اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی رپورٹس اور اقوام متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے تحت کی جانے والی متعدد مراسلات کا حوالہ دیا، جن میں طاقت کے ضرورت سے زیادہ استعمال، من مانی گرفتاریوں اور حراست، وسیع پیمانے پر تشدد، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد، استثنیٰ اور بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں پر سنگین خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

انہوں نے 16 اکتوبر 2025 کو اقوام متحدہ کے خصوصی طریقۂ کار کے تحت جاری ہونے والے ایک مشترکہ مراسلے کی جانب بھی توجہ دلائی، جس میں مقبوضہ علاقے میں تقریباً 2,800 افراد کی گرفتاری اور حراست، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے محافظ بھی شامل تھے، گھروں کی مسماری، تقریباً 8,000 سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش، اور 22 اپریل سے 2 مئی 2025 کے مختصر عرصے کے دوران کشمیریوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی، دھمکی اور انسانیت سے محروم کرنے کے 64 ریکارڈ شدہ واقعات پر سنگین تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب نے 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات کے نتائج کو بھی اجاگر کیا، جن کا تعلق ڈومیسائل، اراضی کی ملکیت اور سیاسی نمائندگی سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں غیر قانونی آبادیاتی تبدیلیوں کی راہ ہموار ہوئی، جبکہ سیاسی سرگرمی، آزادیٔ اظہار اور مذہبی آزادی پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مسئلہ جموں و کشمیر کے مسلسل حل طلب رہنے سے پیدا ہونے والے خطرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دو جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اس مسئلے کو مزید نظرانداز کرنا سنگین مضمرات کا حامل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ غیر حل شدہ تنازعات وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہوتے؛ جب انہیں حل طلب چھوڑ دیا جائے تو وہ مزید خطرناک ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2025 کا تنازع ‘‘دو جوہری صلاحیت رکھنے والی ریاستوں کے درمیان تنازع کو طول دینے کے سنگین خطرات’’ کو نمایاں کر چکا ہے۔

سلامتی کونسل کے آریا فارمولہ اجلاس کے دوران برطانیہ، فرانس، روسی فیڈریشن، چین، پاناما، امریکہ، ڈنمارک، یونان، صومالیہ، بحرین، کولمبیا، جمہوریہ کانگو، لٹویا، لائبیریا، پرتگال، سعودی عرب، لبنان، قطر، اسپین، عمان، قبرص، ملائیشیا، تھائی لینڈ، کویت، بلغاریہ، لیختن اسٹائن، نیپال، برازیل، آذربائیجان، انڈونیشیا، جاپان، فلسطین، آسٹریا، یورپی یونین اور ترکیہ کے ممتاز نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔