ڈرگ پرائسنگ اور ڈریپ کے امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس، خودمختار، بااختیار بنانے کے اقدامات کا جائزہ

0

اسلام آباد، 15 ستمبر(اے پی پی): وفاقی وزیر اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرِ صدارت ڈرگ پرائسنگ اور ڈریپ کے امور سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈریپ کو مزید خودمختار، بااختیار اور مؤثر ریگولیٹری و پرائسنگ اتھارٹی بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احد چیمہ نے کہا کہ ڈریپ کے مجموعی ادارہ جاتی ڈھانچے، مینڈیٹ، گورننس اور فیصلہ سازی کے نظام کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ڈریپ کو زیادہ ادارہ جاتی اور انتظامی خودمختاری فراہم کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ریگولیٹری اور پرائسنگ فیصلوں میں غیر ضروری وزارتی عمل دخل کم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ نیپرا اور اوگرا جیسے خودمختار ریگولیٹری اداروں کے متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لے کر ڈریپ کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ ڈریپ کے پالیسی بورڈ کو بھی مزید بااختیار بنایا جائے تاکہ وہ واضح فریم ورک کے تحت بروقت اور شواہد پر مبنی فیصلے کر سکے۔

احد چیمہ نے کہا کہ درآمدی ادویات کی قیمتوں کے تعین کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی ضرورت ہے، ادویات کی قیمتوں کا نظام شفاف، شواہد پر مبنی اور مارکیٹ کی حقیقی صورتحال سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ ٹئیر ون ریفرنس ممالک میں دوا دستیاب نہ ہونے کی صورت میں موجودہ پرائسنگ طریقہ کار پر بھی نظرثانی کی جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ درآمدی ادویات کے لیے زیادہ معقول، شفاف اور قابلِ عمل تقابلی پرائسنگ میکنزم وضع کیا جائے۔ ضروری ادویات کی دستیابی یقینی بنانا اور صارفین کو بلاجواز قیمتوں میں اضافے سے تحفظ دینا ترجیح ہے۔

انہوں نے ادویات کی قیمتوں سے متعلق زیرِ التوا اور ہارڈشپ کیسز کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر کیس میں دوا کی نوعیت، درجہ بندی، دستیابی اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک اور سیکریٹری قومی صحت ڈاکٹر فخرِ عالم عرفان نے ڈریپ کے پالیسی و ادارہ جاتی فریم ورک میں اصلاحات کی ضرورت سے اتفاق کیا۔

اجلاس میں سی ای او ڈریپ، ڈائریکٹر پرائسنگ ڈریپ اور دیگر سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔