بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری اور قومی فریضہ ہے: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی

7

اسلام آباد، 15 ستمبر (اے پی پی): چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر قومی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ مشکل اور ضرورت کے وقت اپنے شہریوں کے ساتھ کھڑی ہو۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کا فرضِ منصبی اور قومی فریضہ ہے، جبکہ ایوانِ بالا (سینیٹ) تارکینِ وطن کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی تارکینِ وطن کے تحفظ، عزت، حقوق اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور نقل مکانی کے بڑھتے ہوئے تعلق پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ موسمیاتی اثرات سے نمٹنے اور جبری نقل مکانی میں کمی کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے، اور بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت بالخصوص گرانٹس کی صورت میں فراہم کی جانی چاہیے۔

مائیگریشن گورننس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ مائیگریشن گورننس کے مؤثر نظام کے لیے پارلیمانی کمیٹیوں اور متعلقہ ریاستی اداروں میں مضبوط روابط کا ہونا ضروری ہے۔ قابلِ اعتماد اعداد و شمار، تحقیق اور مسلسل مکالمے سے مائیگریشن گورننس کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر پارلیمانی اتفاقِ رائے درکار ہے کیونکہ مائیگریشن گورننس سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر ایک اہم قومی مسئلہ ہے جو ملک بھر کے لاکھوں خاندانوں کو براہِ راست متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پارلیمانی ڈائیلاگ کو ایک مستقل پارلیمانی اقدام کے طور پر جاری رکھنے کی ضرورت ہے، اور اس مکالمے کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات کو مؤثر قانون سازی اور پالیسی اقدامات میں ڈھالا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائیگریشن گورننس کے حوالے سے پارلیمانی مکالمے کو ایک پائیدار اور مؤثر عمل میں تبدیل کرنا ہوگا۔