بنگلہ دیش اور پاکستان کی باہمی تجارت میں کئی گنا اضافے کی صلاحیت ہے: ہائی کمشنر

3

لاہور، 23 اکتوبر( اے پی پی )  بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ڈی اقبال حسین خان نے لاہور چیمبر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جس میں کئی گنا اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ باہمی تعاون میں اضافے، تجارتی روابط بہتر بنانے، تجارتی رکاوٹیں دور کرنے اور دونوں ممالک کی کاروباری برادری کے درمیان قریبی روابط سے اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی، نائب صدر چودھری خادم حسین، بنگلہ دیش کے اعزازی قونصل قاضی ہمایوں فرید ،ایگزیکٹو کمیٹی اراکین نائلہ ندیم، شہزاد علی شاہ اور عامر عطا باری نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، انجینئرنگ، فوڈ پروسیسنگ، کیمیکلز، معدنیات، تعلیم، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی تاجر بنگلہ دیش میں ”میڈ اِن پاکستان“ نمائشوں میں شرکت کرتے رہے ہیں، جبکہ نومبر میں کراچی میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی نمائش میں بنگلہ دیش کے تاجروں کی شرکت متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان سے مکئی، چاول اور باسمتی چاول، ٹیکسٹائل خام مال، کیمیکلز، معدنیات ، چینی، گندم، اناج اور مصالحہ جات درآمد کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ضروری کلیئرنس کے بعد بنگلہ دیش سے انناس پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے ہیں اور موسمی پھلوں، زرعی مصنوعات اور گڑ کی تجارت کو بھی وسعت دی جا سکتی ہے۔ تجارتی روابط کے حوالے سے ہائی کمشنر نے کہا کہ کراچی اور چٹاگانگ کے درمیان سامان کی ترسیل عموماً کولمبو، سنگاپور یا بنکاک کے راستے ہوتی ہے، جس میں تقریباً 2 ہفتے لگتے ہیں۔ براہِ راست سمندری رابطہ قائم ہونے سے یہ وقت کم ہو کر 5 سے 6 دن ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کاروباری ویزوں کے حصول میں آسانی، ای ویزا سہولتوں میں بہتری اور براہِ راست فضائی رابطوں میں اضافے پر زور دیا۔ لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک عملی اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے سینئر نائب صدر کی نگرانی میں لاہور چیمبر کے اندر بنگلہ دیش کے لیے ایک مخصوص تجارتی سیل قائم کرنے کی تجویز دی جو کاروباری روابط کو فروغ دینے اور مشترکہ منصوبوں پر پیش رفت کی نگرانی کرے گا۔انہوں نے مزید تجویز کیا کہ برآمدات کے لیے 5 ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی جائے ڈھاکہ یا چٹاگانگ کے کسی بڑے چیمبر اور لاہور چیمبر کے درمیان روابط اور آن لائن میٹنگز کا اہتمام کیا جائے۔ تجارتی وفود کا تبادلہ بھی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ علی حسام اصغر نے کہا کہ لاہور چیمبر برآمدات میں اضافے، نئی منڈیوں تک رسائی اور کاروباری برادری کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے پ ±رعزم ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے دوطرفہ تجارت میں کمی کے رجحان کو تبدیل کرتے ہوئے اسے کم از کم 2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے فارماسیوٹیکل، ٹیکسٹائل، ، چاول، سیمنٹ، زراعت، فوڈ پروسیسنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور خدمات کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کی شراکت داریوں کو فروغ دینے کے ساتھ شپنگ، کسٹمز، دستاویزات اور مارکیٹ معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور چیمبر کاروباری ملاقاتوں، نمائشوں اور تجارتی وفود کے تبادلوں میں تعاون فراہم کرے گا۔لاہور چیمبر کے نائب صدر چودھری خادم حسین نے کہا کہ مشترکہ کوششوں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے باہمی روابط بڑھانے اور کاروباری برادریوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے لیے لاہور چیمبر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن نائلہ ندیم نے میڈیکل سائنسز، زرعی آلات، پیکیجنگ اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن شہزاد علی شاہ نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل اور کاسمیٹکس انڈسٹری کی ایکسپورٹ پوٹیشنل پر رشنی ڈالی جبکہ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عامر عطا باری نے کہا کہ ٹیکسٹائل، انجینئرنگ اور صنعتی مصنوعات کے شعبوں میں بہت صلاحتیں ہیں۔