وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بینک کے درمیان معاشی استحکام، اصلاحاتی ایجنڈے اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال

4

اسلام آباد،23 اکتوبر(اے پی پی ): وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک کے مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان (MENAAP) کے لیے خوشحالی کے شعبے کے علاقائی ڈائریکٹر، مسٹر سندیپ مہاجن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر، محترمہ بولورما امگابازار، اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ڈویژن ڈائریکٹر، مسٹر سائمن اینڈریوز بھی موجود تھے۔ ملاقات میں پاکستان کے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے، استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب منتقلی اور سرمایہ کاری و نجی شعبے کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ترجیحات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

مسٹر سندیپ مہاجن نے پاکستان میں معاشی استحکام کی بحالی پر مبارک باد دی اور علاقائی تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالیہ بحران سے حکومت کے مؤثر طور پر نمٹنے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کی کوششوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مالیاتی تحفظات اور بروقت پالیسی اقدامات نے پاکستان کو بیرونی دباؤ سے نمٹنے میں مدد دی۔ ورلڈ بینک کے نمائندوں نے ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے اصلاحات کا تسلسل اور مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ترجیح معاشی استحکام کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنانا اور اسے پائیدار، سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں 3 ارب امریکی ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے ہیں، جن کی مدتِ ادائیگی پانچ اور دس سال ہے، جس کے ذریعے عالمی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کے لیے پیش رفت کی راہ ہموار کرنے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور خودمختار کریڈٹ پروفائل بہتر کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

وزیرِ خزانہ نے ایک قابلِ اعتماد عبوری لائحۂ عمل کی اہمیت پر زور دیا، جو مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے، بیرونی شعبے کی کمزوریوں سے نمٹنے اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری پر مبنی ذمہ دارانہ اور پائیدار ترقی کی بنیادیں مضبوط بنانے میں معاون ہو۔ اس ضمن میں بیرونی خطرات کے مؤثر انتظام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دینے کے لیے مالیاتی فریم ورک اور پالیسیوں کی ساکھ بہتر بنانے کے حوالے سے بین الاقوامی تجربات سے استفادے پر بھی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں پائیدار معاشی پیش رفت کے لیے پالیسیوں کے تسلسل کو بھی بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیا گیا۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کا انحصار قابلِ پیش گوئی پالیسی ماحول اور پالیسیوں پر مستقل عملدرآمد پر ہے۔وزیرِ خزانہ اور ورلڈ بینک کے نمائندوں نے حکومت کے معاشی ترقی اور روزگار کے ایجنڈے پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جس میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھانے، ضابطہ جاتی ماحول بہتر بنانے اور انفراسٹرکچر کے لیے مالی وسائل متحرک کرنے کے مواقع شامل تھے۔ گفتگو میں نجکاری، واضح ضابطہ جاتی فریم ورک اور نجکاری کے بعد قابلِ اعتماد انتظامات کی اہمیت، نیز موزوں مالیاتی ڈھانچوں اور ترقیاتی شراکت داروں کے تعاون سے انفراسٹرکچر کے منصوبے تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔دونوں جانب سے پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا گیا۔ اس تعاون کا مشترکہ مقصد معاشی استحکام کو برقرار رکھنا، ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانا، پالیسیوں کے تسلسل کو مضبوط بنانا اور اصلاحات کے ثمرات کو سرمایہ کاری، روزگار اور عوام کے لیے بہتر معاشی مواقع میں تبدیل کرنا ہے۔