بھارتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں پاکستان مستقل مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل کا حقِ جواب

0

اقوام متحدہ،08 اکتوبر (اے پی پی): بھارتی نمائندے کے ریمارکس کے جواب میں پاکستان مستقل مشن کے قونصلر محمد جواد اجمل نے حقِ جواب میں کہا ہے کہ ہم نے ابھی ایک مرتبہ پھر بھارتی وفد کی جانب سے ایک اور بیان میں وہی پروپیگنڈا سنا ہے۔

یہ امر افسوس ناک ہے کہ ایک ایسا ملک،جو انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے،جس نے اسلاموفوبیا اور انتہاپسند نظریات کو معاشرے میں عام کر دیا ہے،اور جو جموں و کشمیر کے غیر قانونی طور پر زیرِ قبضہ علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کی کوشش کر رہا ہے،جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے،وہ اس طرح کے بے بنیاد الزامات اور ناشائستہ بیانات دے رہا ہے۔

پاکستان اپنی سرزمین پر بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی بھاری قیمت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ بھارت افغانستان کے اندر موجود اپنے پراکسیز کی فعال معاونت کے ذریعے فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندوستان جیسے دہشت گرد گروہوں کی مدد اور سرپرستی کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے لیے بھارت کی اس نئی محبت کا کوئی اتفاقی پہلو نہیں۔ انسانی ہمدردی کی امداد کی آڑ میں بھارت طالبان حکومت کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد حملوں کے لیے مادی اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہا ہے۔

ہم دنیا کو مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ بھارت ہمارے خطے میں انتشار پھیلانے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستانی سرزمین پر زیرِ حراست بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن جادھو کی گرفتاری اور اس کی جانب سے تخریب کاری، جاسوسی اور پاکستان میں متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے کا اعتراف،جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہری جاں بحق ہوئے، بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک نمایاں مثال ہے۔

بیرونِ ملک ماورائے علاقائی قتل  اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا کردار، جو اب اس کی غیر قانونی کارروائیوں کی ایک عالمی پہچان بن چکا ہے،سب کے سامنے ہے۔ اس میں نکھل گپتا کی جانب سے امریکی سرزمین پر ایک سکھ رہنما کے قتل کی سازش کے اعترافِ جرم کی کوشش اور کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا واقعہ شامل ہے۔ یہ تمام کارروائیاں بھارتی حکومت کی ہدایت پر کیے جانے کے الزامات سے منسلک ہیں اور یہ معاملات کسی مزید وضاحت کے محتاج نہیں۔

یہ بات سب پر واضح ہونی چاہیے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت، اپنے عوام اور اپنی سلامتی کا دفاع کرے گا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان ہر ضروری اقدام کرے گا، جبکہ تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کے اپنے غیر متزلزل عزم پر بھی قائم رہے گا۔

جہاں تک نام نہاد ‘‘آپریشن سندور’’ اور گزشتہ سال مئی 2025 میں اس جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کے لیے پاکستان کی جانب سے دیے گئے مؤثر اور متناسب جواب کا تعلق ہے، پوری دنیا زمینی حقائق اور پاکستان کے اقدامات کی گواہ ہے، جن کی تفصیلات دہرانے کی ضرورت نہیں۔