اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات پر سفیر عثمان جدون کا بیان

0

اقوام متحدہ، 08 اکتوبر(اے پی پی):اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات پر سفیر عثمان جدون، نائب مستقل مندوب پاکستان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان،اسلامی تعاون تنظیم اور غیر وابستہ تحریک کی جانب سے بالترتیب سعودی عرب اور ایران کے نمائندگان کی جانب سے پیش کیے گئے بیانات سے اتفاق کرتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی تمام اشکال اور مظاہر کی مذمت کرتا ہے۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بالخصوص افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی ایک سنگین خطرے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے، جبکہ مغربی افریقہ اور ساحل کے خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی دہشت گردی کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے رواں صدی کے آغاز سے عالمی انسدادِ دہشت گردی مہم میں صفِ اوّل کا کردار ادا کرنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس دوران پاکستان نے ایک لاکھ سے زائد قیمتی جانوں کا نقصان اٹھایا اور 150 ارب ڈالر سے زائد کے تباہ کن معاشی نقصانات برداشت کیے ہیں۔ہمیں اب بھی بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد گروہوں، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان  اور بلوچستان لبریشن آرمی  اور اس کے مجید بریگیڈ کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے،جو بھارت کی فعال معاونت سے افغان سرزمین سے بلاخوف و خطر سرگرم ہیں۔ گزشتہ صرف تین برس کے دوران اس دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد بے گناہ پاکستانی شہری اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کے خلاف اس نوعیت کے دیدہ دلیرانہ حملوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو قابلِ اعتماد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اپنی مغربی سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف محدود، منظم اور متناسب انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ یہ حملے خصوصی طور پر اور  کے دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ہیں اور شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے انتہائی درستگی اور دقتِ نظر کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ ہم اس کے برعکس کسی بھی الزام یا تاثر کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔

عالمی انسدادِ دہشت گردی کا نظام دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرے کی نوعیت کے ساتھ ہم آہنگی برقرار نہیں رکھ سکا۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی  پر متوازن انداز میں عمل درآمد کی بنیاد پر، موجودہ دہشت گرد خطرے سے نمٹنے کے لیے اجتماعی، جامع اور مربوط ردِعمل اختیار کرے۔

پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم  کے اس مؤقف کی مکمل حمایت کرتا ہے کہ اتفاقِ رائے کی بنیاد پر مرتب کیے جانے والے بین الاقوامی دہشت گردی سے متعلق جامع کنونشن  میں دہشت گردی کی کارروائیوں اور عوام کی اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جائز جدوجہد کے درمیان واضح امتیاز ہونا چاہیے۔

ہم جنرل اسمبلی کے ایک ذیلی ادارے کے قیام کی اپنی تجویز کا اعادہ کرتے ہیں، جس کی مالی اعانت باقاعدہ بجٹ  سے کی جائے، تاکہ رکن ممالک کی قیادت میں جاری عمل کے ذریعے  کے چاروں ستونوں پر متوازن عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے،اور حکمتِ عملی میں وضع کردہ اسٹریٹجک اہداف کو دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جا سکے۔