رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ایک کمسن بچی سمیت 4 افراد شہید، 30 کے قریب زخمی، ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہوگی، وزیر ریلوے

1

ملتان ، 13 اکتوبر(اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ رحمان بابا ایکسپریس ٹرین حادثے میں ایک کمسن بچی سمیت چار افراد شہید جبکہ 30 کے قریب زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے۔ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، جبکہ متاثرین کی مالی امداد بھی کی جائے گی۔

ملتان میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی وزیراعظم نے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اطلاع ملنے کے بعد وہ فوری طور پر ملتان کے لیے روانہ ہوئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

حنیف عباسی نے حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی خاندان کے پیاروں کا بچھڑ جانا ناقابل تلافی نقصان ہے، جس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور اس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا تاکہ وجوہات سامنے لائی جا سکیں۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے ٹریک، ٹرینوں کی دیکھ بھال اور مکینیکل نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ بالخصوص طویل فاصلے کا سفر کرنے والی ٹرینوں کو بہتری کے منصوبوں میں شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریلوے کوچز کی بہتری پر بھی کام جاری ہے اور مستقبل میں ایسی کوچز متعارف کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے کپ اور دیگر متعلقہ حصے زیادہ مضبوط ہوں، تاکہ حادثات کی صورت میں نقصانات کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر ریلوے نے حادثے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے اداروں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پاکستان ریلوے، پاک فوج کے جوانوں اور ریسکیو اہلکاروں نے امدادی کارروائیوں میں بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ حادثے کی وجوہات سامنے لانے کے لیے مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور غفلت یا کوتاہی کے مرتکب پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی جائے گی جبکہ ریلوے کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔