اسلام آباد ،13 اکتوبر(اے پی پی ): صدر مملکت آصف علی زرداری نے یورپ میں پاکستانی ہنر مندوں، پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے لیے قانونی ہجرت (لیگل مائیگریشن) کے مواقع کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا جواب یورپی یونین کی جانب سے قانونی راستوں کی توسیع، مہارت پر مبنی نقل و حرکت اور منظم تعاون کی صورت میں ملنا چاہیے۔
صدر مملکت نے یہ باتیں ایوانِ صدر میں یورپی یونین کے کمشنر برائے اندرونی امور و ہجرت میگنس برونر سے ملاقات کے دوران کہیں۔ ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، ہجرت کے نظام میں بہتری، انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کی کوششوں اور قانونی ہجرت کو آسان بنانے کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے وسیع تر تعاون کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور پاکستان-یورپی یونین اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان پر عملدرآمد کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے غیر قانونی ہجرت کو روکنے کے لیے یورپی یونین کے ساتھ مؤثر تعاون کیا ہے، جس کے تحت “ری ایڈمیشن معاہدے” پر عملدرآمد کرتے ہوئے اب تک 30 ہزار سے زائد افراد کو واپس لیا جا چکا ہے۔
پاکستان سخت قوانین، ادارہ جاتی صلاحیتوں، سرحدوں کی نگرانی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔صدر مملکت نے یورپی یونین کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان سے غیر قانونی ہجرت میں 64 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے، جس کے بعد پاکستان خطے کا واحد ملک بن گیا ہے جس نے اتنی بڑی پیش رفت حاصل کی ہے۔
ملاقات کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان نے غیر قانونی ہجرت اور انسانوں کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈز اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے لیے یورپی یونین سے معاونت کی درخواست کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی ہجرت کے راستے کھولنے سے کارکنوں کو محفوظ مواقع میسر آئیں گے اور وہ اسمگلروں کے چنگل میں پھنسنے سے بچ سکیں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے برس کے شروع میں برسلز میں ہونے والا پاکستان-یورپی یونین مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ کا اگلا دور اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کا باعث بنے گا۔ صدر زرداری نے یورپ سے آنے والے “ٹیلنٹ پارٹنرشپس” فریم ورک کی توسیع کا خیرمقدم کیا اور تجویز دی کہ یورپی یونین پاکستان میں ایک “یورپین لیگل گیٹ وے آفس” قائم کرنے پر غور کرے۔
اس موقع پر یورپی کمشنر میگنس برونر نے علاقائی توازن برقرار رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں شاندار کام کیا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی ہجرت کے خطرات سے انسانی جانوں کو بچانے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی کی تعریف کی۔
ملاقات میں یورپی یونین کے سفیر رائمنڈاس کاروبلس سمیت ڈائریکٹر جنرل فار مائیگریشن ہنریک نیلسن اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے، جبکہ پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی، وزیر مملکت برائے داخلہ محمد طلال چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور سابق وفاقی وزیر نوید قمر نے بھی شرکت کی۔











