اسلام آباد، 13 اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ وزیرِ اعظم نے وفد کو صوبہ خیبر پختونخوا کی تازہ ترین صورتحال اور حکومتی فیصلوں پر اعتماد میں لیا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کے بہترین مفاد میں یہ مشکل ترین فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھرپور کوشش کی تھی کہ کسی طرح ہمیں یہ انتہائی قدم نہ اٹھانا پڑے اور اس مقصد کے لیے کھلے دل سے مذاکرات بھی کیے گئے، لیکن دوسری جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کے حالات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بڑھتے ہوئے دہشت گردانہ حملوں میں معصوم عام شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا تھا، جبکہ صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں مکمل طور پر ناکام رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ لانگ مارچ ملک کی تیزی سے بہتر ہوتی ہوئی معیشت کو تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجی سازش تھی۔
ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کی پالیسیوں اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے کیے گئے حکومتی فیصلوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔
وفد میں سینیٹرز، وفاقی وزرا اور بڑی تعداد میں قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین بھی شامل تھے۔
ملاقات کے دوران وفاقی حکومت کے اہم وزرا بھی موجود تھے، جن میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی روابط رانا ثناء اللہ شامل تھے۔











