اسلام آباد،28 اکتوبر ( اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ طلباء و طالبات کو سکولوں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
ان خیالات کا اظہار وانہوں نے اسلام آباد میں سکولوں میں اصلاحات کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر کے تمام مسائل ہنگامی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔
اجلاس میں وزیراعظم نے اسلام آباد کے تمام سرکاری سکولوں میں انفراسٹرکچر، نصاب، اساتذہ کی تربیت اور دیگر اصلاحات کے ہنگامی بنیادوں پر نفاذ کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو ایک مؤثر اور فعال ادارے میں تبدیل کرنے کے لیے حکمت عملی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ وزیراعظم نے اسلام آباد میں طلباء و طالبات کی غذائی نشو و نما یقینی بنانے کے لیے مفت لنچ کا نظام فعال کرنے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی احسن اقبال کو اسلام آباد میں سرکاری سکولوں کے مسائل ایک ہفتے میں حل کرنے کی ہدایت جاری کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ تمام سکولوں میں سمارٹ بورڈز جلد از جلد نصب کیے جائیں جبکہ وفاقی دارالحکومت میں سکولوں کے مسائل حل کرنے کے لیے تمام وسائل فوری طور پر بروئے کار لائے جائیں۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے سرکاری سکولوں کے اساتذہ تعلیم و تدریس کے علاوہ کسی اور سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔
مزید برآں وزیراعظم نے سرکاری سکول بسوں کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے سمیت طلباء و طالبات کے نقل و حمل کے لیے سرکاری بسوں کی آؤٹ سورسنگ اور تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی بھرتیاں صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں۔ وزیراعظم نے سرکاری سکولوں میں سولرائزیشن کو فروغ دینے، جسمانی طور پر معذور طلباء و طالبات کے لیے تمام سرکاری سکولوں میں ریمپ قائم کرنے اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اجلاس میں وزیراعظم کی ستمبر 2026 کی ہدایت کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے سرکاری سکولوں میں نصاب، انفراسٹرکچر اور دیگر امور کے حوالے سے سروے رپورٹ پیش کی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ اسلام آباد کے زیادہ تر سرکاری سکولوں میں انٹرنیٹ، پینے کا صاف پانی، کمپیوٹر لیبز اور دیگر بنیادی سہولیات موجود ہیں جبکہ سروے میں شامل کچھ سکولوں کے انفراسٹرکچر کے مسائل پر بریفنگ دی گئی۔ اس کے علاوہ بتایا گیا کہ سرکاری سکولوں میں ہیڈ ٹیچرز کو بااختیار بنانے اور جدت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور بتایا گیا کہ پورے اسلام آباد میں طلباء و طالبات کے نقل و حمل کے لیے 278 سرکاری بسیں چل رہی ہیں۔











