اسلام آباد،14اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ عالمی چیلنجز کے باوجود پاکستان معاشی محاذپر پیش رفت کررہاہے، گزشتہ دو سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا،سرکاری قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے۔
یہ بات انہوں نے بینکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس 2026 کے موقع پر مارکیٹ تک رسائی رکھنے والے ممالک کو خودمختار مالیاتی خطرات سے محفوظ بنانے کے موضوع پر پینل مباحثے کے دوران کہی۔وزیرخزانہ نے عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معاشی پیش رفت اور اصلاحات کے حوالہ سے اٹھائے جانیوالے اقدامات پرروشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 2.6 فیصد تک گر گیا ہے جو 22 سال کی کم ترین سطح ہے جبکہ ملک مسلسل تین سال بنیادی مالیاتی سرپلس حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ گز شتہ دو سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 40 فیصد اضافہ ہوا جبکہ سرکاری قرضوں کا حجم مجموعی قومی پیداوار کے 75 فیصد سے کم ہو کر 68 فیصد رہ گیا ہے، پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد عالمی کیپٹل مارکیٹس میں واپس آیا اور تین ارب ڈالر حاصل کیے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا اصلاحات کا پروگرام قومی ترجیحات کے مطابق آگے بڑھایا جا رہا ہے اور آئی ایم ایف اس عمل میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی استحکام کے حصول کے بعد پاکستان کا اگلا ہدف پائیدار اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔











