قومی اسمبلی اجلاس ، تین ترمیمی بل منظور

0

اسلام آباد، 19 اکتوبر (اے پی پی): قومی اسمبلی نے پیر کو آرکائیول مواد کے تحفظ اور برآمدی کنٹرول (ترمیمی) بل 2026، متروکہ املاک کے انتظام (ترمیمی) بل 2026 اور سینٹرز آف ایکسی لینس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری دے دی، جبکہ کمپنیز ایکٹ، صنعتی تعلقات ایکٹ اور امیگریشن آرڈیننس میں ترامیم سے متعلق مزید تین بل ایوان میں پیش کیے گئے۔

 اجلاس میں وفاقی دارالحکومت میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، ماحولیاتی آلودگی، رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ اور مختلف سیکٹرز میں ترقیاتی کاموں میں تاخیر سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹسز پر بھی بحث ہوئی۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں کورم کی تکمیل کے لیے ارکان کی گنتی کی گئی، جس کے بعد ایوان کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔ چیئر نے وقفہ سوالات ختم ہونے کا اعلان کیا اور ارکان کی رخصت کی درخواستوں سے متعلق کارروائی کی گئی۔

اجلاس میں بلال اظہر کیانی نے کمپنیز ایکٹ 2017 میں مزید ترمیم کا بل، کمپنیز (ترمیمی) بل 2026 ایوان میں پیش کیا۔

بعد ازاں عقیل ملک نے وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل چوہدری سالک حسین کی جانب سے صنعتی تعلقات ایکٹ 2012 میں ترمیم کا بل، صنعتی تعلقات (ترمیمی) بل 2026 پیش کیا۔ انہوں نے امیگریشن آرڈیننس 1979 میں مزید ترمیم سے متعلق امیگریشن (ترمیمی) بل 2026 بھی ایوان میں پیش کیا۔

قومی اسمبلی نے آرکائیول مواد کے تحفظ اور برآمدی کنٹرول ایکٹ 1975 میں ترمیم سے متعلق بل کی منظوری دے دی۔ عقیل ملک نے متعلقہ وزیر کی جانب سے قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کردہ بل کو زیر غور لانے کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے منظور کر لیا۔ شق وار کارروائی کے بعد بل کی حتمی منظوری کی تحریک بھی منظور کر لی گئی۔

اسی طرح متروکہ املاک کے انتظام ایکٹ 1975 میں ترمیم سے متعلق بل کو بھی ایوان نے منظور کر لیا۔ عقیل ملک نے بل کو زیر غور لانے کی تحریک پیش کی۔ ایوان نے شقوں 2 سے 5، شق ایک، تمہید اور عنوان کی منظوری دی، جس کے بعد متروکہ املاک کے انتظام (ترمیمی) بل 2026 کی حتمی منظوری دے دی گئی۔

قومی اسمبلی نے سینٹرز آف ایکسی لینس ایکٹ 1974 میں مزید ترمیم کا بل بھی منظور کر لیا۔ وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے پیش کردہ بل پر شق وار غور کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے نام سے پیش کردہ شق 2 میں ترمیم منظور کی گئی۔

ایوان نے شق 2 کو ترمیم شدہ صورت میں جبکہ شقوں 3 سے 8، شق ایک، تمہید اور عنوان کو بھی منظور کر لیا۔ بعد ازاں رابعہ نسیم صدیقی نے وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی جانب سے بل کی حتمی منظوری کی تحریک پیش کی، جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کر لیا۔

اسلام آباد میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ رکن قومی اسمبلی آسیہ ناز تنولی کی جانب سے سیکٹر آئی ٹین اور آئی الیون کے درمیان کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی، بدبو، زیر زمین پانی کے آلودہ ہونے کے خدشات اور صحت عامہ کو لاحق خطرات سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں صفائی ستھرائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے جدید مشینری حاصل کر چکا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت کو صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک رکھنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اسلام آباد میں ماضی میں کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے عارضی مقامات قائم کیے گئے تھے، تاہم راولپنڈی کے تعاون سے چک بینی روڈ پر مستقل ڈمپنگ گراؤنڈ کے لیے جگہ حاصل کر لی گئی ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس پر مزید جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بعض وجوہات کے باعث کچرے کی منتقلی متاثر ہوئی، تاہم اب روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 700 میٹرک ٹن سالڈ ویسٹ منتقل کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سیکٹر آئی نائن میں سالڈ ویسٹ ڈپو قائم کیا جا رہا ہے جو آئندہ دو سے تین ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔ اس کے فعال ہونے کے بعد موجودہ مقام سے کچرا ہٹا دیا جائے گا۔