اسلام آباد،31اکتوبر (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ غریب آدمی کو ریلیف دینا حکومت کی اہم ترجیح ہے، ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم نےہفتہ کو یہاں مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے ارکان اور عہدیداوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ(ن )نے خیبر پختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے،مسلم لیگ(ن) خیبر پختونخوا کی مقبول ترین جماعت ہے،2013 کے انتخابات کے بعدقائدنواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیاتاکہ جمہوریت کا پہیہ چلتا رہے، محمدنواز شریف کی جمہوری سوچ اور فراخ دلی نے خیبر پختونخوا میں جمہوریت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ18۔2017میں دہشت گردی کا ملک سے خاتمہ ہو چکا تھا، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں خیبر پختونخوا کے عوام نے عظیم قربانیاں دیں،عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دیں،حاجی غلام احمد بلور کے بھائی کو شہید کر دیا گیا ،انجینئر امیر مقام بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے، عام لوگوں ،قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،80 ہزارافراد شہید ہوئے اور 150سے 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا،تب جا کر ملک میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوا تھا،محمدنواز شریف کے دور میں پوری قوم اور اداروں نے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ان اڑھائی سالوں میں ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی، عالمی حالات اور خلیج جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا،مشکلات کے باوجود حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے فیول سبسڈی سکیم کااجرا کیا،فروری میں ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس میں اربوں روپے کی سبسڈی دی گئی اب فیول سبسڈی سکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد ووچر سکیم سے مستفید ہو چکے ہیں ، عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذکیاگیا،مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہماری بات نہ سنی،پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹی نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے، مذاکرات کے بعد طے شدہ مسودے کی منظوری کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن منظوری نہ مل سکی۔
وزیراعظم نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا، بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا ،ہمیں مجبورا گورنر راج اور ایمرجنسی کا سوچنا پڑا اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا،لوگوں کی زندگیوں، ملک ،کے پی کے معاشرے اور معیشت کو بچانے کے لیے یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ چترال ،ہری پور مانسہرہ،باجوڑ اور شانگلہ میں دانش سکولوں میں غریب بچوں کو ایچی سن کالج لاہور کی طرز کی تعلیم ملے گی ،غریب بچوں کی بہتر تعلیم کے لیے مزید دانش سکولز بھی قائم کیے جائیں گے،صوبےکی ترقی،امن، خوشحالی اور عوامی خدمت کے لیے مسلم لیگ (ن) اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔مسلم لیگ(ن)خیبر پختونخواکے صدر اور وفاقی وزیر امور کشمیر وگلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے انتشاری سیاست کو مسترد کر دیا ہے،خیبر پختونخوا کے عوام صوبے میں ترقی اور امن چاہتے ہیں،خیبر پختونخواکے ہر کونے میں مسلم لیگ(ن) کی عوامی طاقت موجود ہے اور ہم نے اس کا متعدد مواقع پر مظاہرہ بھی کیا ہے،مسلم لیگ (ن) کے کارکن اپنے قائد محمد نواز شریف اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ملک اور صوبے کی ترقی کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔











