پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں موثر کردار ادا کرنے کیلئے مالیاتی جدت اور جدید ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی، وزیرمملکت بلال بن ثاقب

9

لاہور،02نومبر  (اے پی پی):وزیر مملکت و پاکستان ورچوئل ایسٹیس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے)کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ پاکستان کو عالمی مالیاتی منظرنامے میں موثر کردار ادا کرنے اور مستقبل کی مالیاتی منڈیوں میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مالیاتی جدت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہوگا، عالمی مالیاتی نظام کے قواعد و ضوابط نئے سرے سے تشکیل پا رہے ہیں اور پاکستان محض دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ملک بن کر نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں ڈیجیٹل اثاثے اور بینکاری کا مستقبل کے موضوع پر منعقدہ مکالمے کے دوران پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ظفر مسعود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ بلال بن ثاقب نے کہا کہ بٹ کوائن نے ڈیجیٹل اثاثوں کے وسیع تر نظام تک رسائی کا راستہ فراہم کیا ہے،  اس شعبے میں پاکستانیوں کی دلچسپی اور اپنانے کی صلاحیت ملک کے باصلاحیت انسانی وسائل اور مستقبل کے مالیاتی نظام سے ہم آہنگ ہونے کی استعداد کا ثبوت ہے  تاہم بلاک چین ٹیکنالوجی کی افادیت بٹ کوائن اور کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس کے ذریعے مالیاتی قدر کی منتقلی اور ذخیرہ کرنے کے طریقوں، اثاثوں کی ٹوکنائزیشن، سرمایہ کاری کے مواقع تک وسیع تر رسائی اور قابل پروگرام کرنسی کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں ممکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجیز پاکستان میں مالیاتی شمولیت کو فروغ دینے، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے اور ملک کے مالیاتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ عالمی مالیاتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے پی مورگن، ایچ ایس بی سی، سٹی بینک اور بی این وائی سمیت بڑے عالمی مالیاتی اداروں نے بہتر مالیاتی مصنوعات کی تیاری اور نئے کاروباری مواقع تلاش کرنے کے لیے بلاک چین پر مبنی ٹیکنالوجیز اپنانا شروع کر دی ہیں۔ پاکستان کو بھی دوسروں کی تیار کردہ ٹیکنالوجیز کا محض صارف بننے کے بجائے عالمی مالیاتی نظام کے نئے قواعد و ضوابط کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا  ماضی میں جب بین الاقوامی کوریسپانڈنٹ بینکاری اور کارڈ ادائیگیوں کے نظام تشکیل دیے گئے تو پاکستان ان مباحثوں کا حصہ نہیں تھا اور آج بھی ملک کو اس عدم شمولیت کی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے ،اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنا مستقبل کرائے پر لینا چاہتے ہیں یا اس کی ملکیت اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں؟ بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کو سٹیٹ بینک آف پاکستان اور بینکوں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ایسا سازگار ریگولیٹری ماحول تشکیل دینا ہوگا جو مالیاتی جدت کی حوصلہ افزائی کرے اور اس کے ساتھ مالیاتی استحکام کو بھی برقرار رکھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بروقت اور ذمہ دارانہ اقدامات نہ کرنے کی قیمت، عملی اقدامات سے وابستہ ممکنہ خطرات سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ وزیرمملکت نے کہاکہ   ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے  اہم بنیاد ہیں تاہم بین الاقوامی سطح پر رقوم کی منتقلی کا بیشتر بنیادی ڈھانچہ کئی دہائیاں پرانے نظاموں پر انحصار کرتا ہے  ،پاکستان کو سالانہ تقریبا 41 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوتی ہیں اور اگر ان کی منتقلی کے اخراجات میں صرف دو سے تین فیصد کمی بھی کر دی جائے تو اس کے نتیجے میں تقریبا ایک ارب ڈالر اضافی طور پر ملکی معیشت اور نچلی سطح کی اقتصادی سرگرمیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی وی اے آر اے سٹیٹ بینک کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے ادائیگیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ترسیلات زر کی لاگت کم کرنے میں جدید ٹیکنالوجیز کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے  ،خلیجی ممالک سے پاکستان رقوم کی ترسیل کے روٹ پر ایک آزمائشی منصوبے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ بینکوں کو مشترکہ مالیاتی بنیادی ڈھانچے، خصوصا ڈیجیٹل اثاثوں کی تحویل ، صارفین کی شناخت اور تصدیق کے نظام   اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی تعاون کرنا چاہیے،  صارفین کو بہتر خدمات اور کم لاگت مصنوعات فراہم کرنے کے لیے مسابقت جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری سے مالیاتی اداروں کو واضح پالیسی رہنمائی اور اعتماد فراہم کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بینک اپنی صلاحیتیں اور وسائل جدت اور نئی مالیاتی مصنوعات کی تیاری پر مرکوز کر سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پی وی اے آر اے،  سٹیٹ بینک اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ مل کر مالیاتی جدت کے لیے سازگار ماحول تشکیل دینے پر کام کر رہی ہے۔ بلال بن ثاقب نے بیرون ملک مالیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے پاکستانی ماہرین سے روابط بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ ماہرین اپنے بین الاقوامی ادارہ جاتی تجربے اور مہارت سے پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پاکستان کا بینکاری شعبہ اور مالیاتی ادارے ملک کو خطے میں مالیاتی جدت کے مرکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، سائبر سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے لیے مضبوط حفاظتی انتظامات ناگزیر ہیں  ،سائبر حملوں کو ٹیکنالوجی کی ناکامی کے بجائے سکیورٹی پروٹوکول میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کے طور پر دیکھنا چاہیے  ۔انہوں نے عالمی سطح پر سائبر حملوں کے بڑے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی اداروں کو اپنے سائبر سکیورٹی نظام مزید مضبوط بنانے اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے پیچیدہ سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے بینکوں اور ریگولیٹری اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ملک کا ڈیجیٹل مالیاتی بنیادی ڈھانچہ محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی مالیاتی جدت کی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہو۔ اس موقع پر بلال بن ثاقب نے مکالمے میں شریک افراد کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ تقریب میں لمز کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی چیمہ، سٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر سلیم اللہ اور دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔