اسلام آباد،02نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے تحت اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کو 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پٹرول کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونے دیا گیا، اضافے کا بوجھ آئل ریفائنریز برداشت کر رہی ہیں، وزیراعظم کا پہلے دن سے وژن رہا ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے، حکومت نے معاشی استحکام کے لئے جامع اصلاحات متعارف کرائی ہیں، خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ساڑھے 13 سالہ دور حکومت کے دوران صوبے میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود کے شعبوں کو نظر انداز کیا گیا۔ پیر کو یہاں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پرائسنگ فارمولے میں تبدیلی کے حوالے سے گزشتہ روز سے خبریں گردش کر رہی تھیں تاہم آج وزیر پٹرولیم نے اس معاملے پر تفصیلی وضاحت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا پہلے دن سے وژن رہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کم سے کم بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح خطے کی صورتحال سے پاکستانی معیشت بھی متاثر ہوئی تاہم الحمدللہ ہمارے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز بہتر رہے۔ وزیراعظم کی خصوصی کاوشوں کے باعث پاکستانی معیشت پر دیگر معیشتوں کی نسبت زیادہ دباؤ نہیں پڑا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم نے سخت ہدایات جاری کیں کہ عالمی صورتحال کے اثرات کا بوجھ عوام پر نہ پڑے۔ جمعہ کو پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ متوقع تھا کیونکہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ رہی تھیں تاہم وزیراعظم کی ہدایت پر یہ بوجھ ریفائنریز پر منتقل کیا گیا، ریفائنریز کو ماہانہ 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں جب عالمی صورتحال کے باعث توانائی کی منڈیوں پر دباؤ ہے، وزیراعظم فیول ریلیف سکیم ایک اہم اقدام ہے جس کے ذریعے عوام کو مشکلات سے بچانے کی کوشش کی گئی ہے، حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے سبسڈی سکیم کا اجراء کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی دلی خواہش اور عوام کے لئے احساس نے فیول ریلیف سکیم کو عملی شکل دی جس کے تحت موٹر سائیکل، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو رعایتی نرخوں پر پٹرول مل رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم کے تحت اب تک 15 ملین سے زائد رجسٹریشن ہو چکی ہیں جو ایک بڑی تعداد ہے، کسی بھی سکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ افراد کی رجسٹریشن اور انہیں بلا تعطل سستا پٹرول فراہم کرنا اس سکیم کی کامیابی کا بڑا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول پمپس کی جانب سے رعایتی نرخوں پر فراہم کئے جانے والے پٹرول کی رقم بھی ادا کی جا رہی ہے، اب تک ریلیف کی مد میں تقریباً 27 ارب روپے فراہم کئے جا چکے ہیں اور یہ سکیم کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے خصوصی طور پر یہ سکیم وضع کی جس پر عملدرآمد کے لئے وزارت آئی ٹی، وزارت پٹرولیم، اوگرا اور سٹیٹ بینک نے مل کر اقدامات کئے، یہ سکیم پورے پاکستان میں نافذ ہے، کامیابی کے ساتھ شروع کی گئی ہے اور عوام کو ریلیف کی فراہمی کے لئے جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لئے کوششیں جاری ہیں اور جب امن بحال ہوگا اور حالات معمول پر آئیں گے تو صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ مشکل وقت میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کی کاوشوں سے فیول سبسڈی سکیم جاری ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ متوقع تھا، اسے بھی روک دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم ایک منفرد ریلیف ہے جو دنیا کے دیگر ممالک میں دستیاب نہیں تاہم پاکستان میں اسے ممکن بنایا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل، چنگ چی رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان اس سکیم کے اہل ہیں اور رجسٹریشن کروا کر رعایتی نرخوں پر پٹرول حاصل کر سکتے ہیں، یہ سکیم جاری رہے گی۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے، مشکل ترین حالات میں بھی کارگو کی آمد اور سپلائی یقینی بنائی گئی ہے اور ملکی ضروریات پوری ہو رہی ہیں، غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں، اس وقت قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ ساڑھے 13 سال کے دوران نااہلوں نے تباہی اور بربادی برپا کی، اب وہاں کوالیفائیڈ لوگ آئے ہیں جو معاملات کو بہتر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی ساڑھے 13 سال مسلسل حکومت رہی لیکن اس دوران صوبے میں سڑکوں، پلوں، ہسپتالوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعمیر کے حوالے سے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا گیا اور نہ ہی نوجوانوں کو لیپ ٹاپ فراہم کئے گئے۔ اپنے دورہ کوہاٹ کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہاں موٹروے اور کوہاٹ ٹنل مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں تعمیر ہوئے، اس کے بعد کوئی منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ صوبے میں سیف سٹی منصوبہ، کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ مرکز اور یونیورسٹیاں قائم کرنے میں کیا رکاوٹ تھی؟ نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرکے انہیں سہولت فراہم کی جا سکتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب نے بڑا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لئے آئی ایم ایف کو خطوط لکھے تاکہ پاکستان کو پروگرام سے باہر نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے کی توفیق نہیں ہوتی اور وہ صرف تخریبی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال کا سابقہ دور سے موازنہ کرنے کے لئے زرمبادلہ کے ذخائر، قرضوں کی ادائیگی، میکرو اکنامک انڈیکیٹرز اور معاشی استحکام کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے معاشی استحکام اور ترقی کے لئے جامع اصلاحات کا عمل شروع کیا ہے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان سب سے پہلے ہے، سیاسی جماعتیں اور ان کے لیڈر بعد میں ہیں۔ اگر کوئی سیاسی جماعت یہ کہتی ہے کہ اس کا لیڈر پاکستان سے بڑا ہے تو ایسی سوچ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ایف بی آر میں اصلاحات کا آغاز کیا اور وزیراعظم کی ہدایت پر پہلی مرتبہ مینوفیکچرنگ کے عمل کی نگرانی کے ذریعے ٹیکس جمع کیا جا رہا ہے۔ صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا ہے۔ سیمنٹ، تمباکو اور مشروبات سمیت مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی متعارف کرا کے پیداوار کی نگرانی اور ٹریسنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ ایف بی آر میں سٹرکچرل ریفارمز بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں اور شپنگ کے شعبے میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں اور پورٹس پر فیس اپریزل کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ حکومت نے ٹیکنالوجی کے ذریعے مختلف شعبوں میں اصلاحات کی ہیں۔ مجموعی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو مشکل حالات کے باوجود حکومت نے جو کچھ کیا ہے وہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر آنے والے ملک میں تباہی کرکے گئے۔ ان سے سوال ہے کہ انہوں نے ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کون سا ایسا کارنامہ انجام دیا جس کی مثال دی جا سکے؟ جنہیں ایکسچینج ریٹ کے طریقہ کار کا علم نہیں تھا، ان کے لیڈر کہتے تھے کہ ٹی وی آن کرنے سے ایکسچینج ریٹ کا پتا چلتا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سابقہ حکومت کی پوری کوشش رہی کہ معاشی استحکام کے لئے جاری اقدامات کو سبوتاژ کیا جائے تاہم موجودہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ڈیفالٹ کرانے کے لئے سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی، لوگوں کو بجلی کے بل جلانے اور ادائیگیاں نہ کرنے کی ترغیب دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے اپنے دور حکومت میں خیبرپختونخوا میں لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلنے دیں، کوہاٹ میں دورے کے دوران انہیں ایک بھی رجسٹرڈ موٹر سائیکل نظر نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ کیا صوبائی حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی رجسٹریشن کرکے ریونیو جمع کرتی اور اسے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی؟ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے ملک کے ساتھ بہت زیادتی کی اور عوام کو کھوکھلے نعروں کے پیچھے لگایا۔ ان کی معاشی ٹیم کون تھی اور اس کی ایک بھی نمایاں کامیابی بتائی جائے۔ چیئرمین اوگرا کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ اوگرا کو بہترین انداز میں ریگولیٹ کر رہے ہیں اور ان کی اچھی پالیسیوں کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ وہ پہلے بھی وزیراعظم کی ٹیم کا حصہ تھے اور آئندہ بھی اس کا حصہ رہیں گے۔











