اسلام آباد: 28 اکتوبر ( اے پی پی ): وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت ، ڈیجیٹائیزیشن اور اس حوالے سے علی بابا کے ساتھ تعاون کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
اجلاس کو حکومتِ پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے تحت مختلف شعبوں میں جاری پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور سٹرس پھلوں و زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کام جاری ہے۔
علی بابا پر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کیلئے خصوصی ویب سائٹ پر خصوصی پاکستان پویلین قائم کر دیا گیا ہے۔
پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کرنے کے لیے دو سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
اجلاس میں ایف بی آر اور پرال کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری اور صحت کے شعبے میں اے آئی کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ توانائی کے شعبے میں اوگرا کو ایندھن کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروس اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، رانا تنویر حسین جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اونگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفی کمال، عبد العلیم خان، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔











