اسلام آباد،21اکتوبر (اے پی پی):پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت کو آئندہ دو سال میں 13.9 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے،اقتصادی تعاون اورسرمایہ کاری کے فروغ، براہ راست فضائی رابطوں کے قیام اور مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کی حمایت اورعلاقائی و عالمی امور پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اس بات کا اظہار وزیراعظم محمد شہباز شریف اور مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے بدھ کو وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے تجارت،دفاع، صحت،تعلیم،ٹیکنالوجی، سیاحت،نوجوانوں کی استعداد کار میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مالدیپ کے صدر کا پاکستان کے پہلے دورے پر خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تاریخی روابط اور باہمی دوستی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تجارت، دفاعی تعاون، تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر شعبوں میں شراکت داری بڑھانے پر بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستان کی جامعات اور کالجوں میں تعلیم حاصل کر چکے ہیں خصوصاً صحت کے شعبے میں پاکستانی تعلیمی اداروں نے مالدیپ کے طلبہ کو مواقع فراہم کیے ہیں۔باہمی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت تقریباً 250 پاکستانی ڈاکٹرز اور طبی عملہ مالدیپ کے مختلف علاقوں میں انسانیت کی خدمت انجام دے رہے ہیں، پاکستان مستقبل میں بھی اس تعاون کو مزید وسعت دینے اور مالدیپ کی ضروریات کے مطابق معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ نے 20 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کا تبادلہ کیا ہے جو دوطرفہ تعلقات کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان معاہدوں کو محض دستاویزات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے بروقت فیصلوں اور تیز رفتار عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے مالدیپ میں پانچ سال کے دوران 50 لاکھ درخت لگانے کے ہدف میں معاونت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس مقصد کے لیے ایک لاکھ زیتون کی قلمیں اور مختلف اقسام کے ایک لاکھ بیج فراہم کرے گا۔وزیراعظم نے مالدیپ میں ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے منصوبوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس شعبے میں اپنی تکنیکی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مالدیپ کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی مختلف مقامات پر ڈیٹا سینٹرز قائم کیے گئے ہیں اور اس شعبے میں حاصل ہونے والا تجربہ مالدیپ کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازعے پر پاکستان کے اصولی موقف سے مالدیپ کے صدر کو آگاہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعے کے پرامن حل کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد اور حق خودارادیت کی حمایت سفارتی ذرائع اور تمام بین الاقوامی فورمز پر جاری رکھے گا ۔
وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے صدر کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت اور رفتار دے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی اور گوادر کے ساحلوں کو چھونے والا وہی سمندر مالدیپ کے جزائر سے بھی جڑا ہوا ہے اور صدیوں سے دونوں خطوں کے درمیان تاجر، علماء کرام اور مسافر اسی سمندری راستے سے ایک دوسرے کے علاقوں تک پہنچتے رہے ہیں۔
مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف، حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کا پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کا دورہ کرنا ان کے لیے باعث مسرت اور اعزاز ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کو 60 سال مکمل ہو چکے ہیں اور یہ چھ دہائیاں گرمجوش دوستی، مشترکہ عقیدے، باہمی تفہیم اور مشترکہ نقطہ نظر کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائی کے وقفے کے بعد ان کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کو ماضی کی دوستی کو مزید مستحکم کرنے اور مستقبل کی شراکت داری کے لیے نئی سمت متعین کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے ساتھ ان کے مذاکرات وسیع اور نتیجہ خیز رہے جن میں دونوں ممالک نے تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی شراکت داری کو مزید وسیع،متحرک اور عوام کے لیے براہ راست مفید بنانے کے امکانات موجود ہیں۔
صدر محمد معیزو نے کہا کہ دونوں ممالک تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافے، سیاحت کے فروغ اور باہمی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مالدیپ۔پاکستان بزنس فورم دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور جدت طرازوں کو ایک جگہ جمع کرنے کا موقع فراہم کرے گا جہاں باہمی دوستی اور مفاہمت کو باہمی فائدے کی سرمایہ کاری اور شراکت داری میں تبدیل کیا جا سکے گا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازوں کے آغاز کے لیے جاری بات چیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست فضائی رابطے سیاحت کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت بھی دونوں ممالک کے لیے تعاون کا اہم شعبہ ہے جہاں مشترکہ اقدار اور تجربات کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو دونوں ممالک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے مالدیپ کے طلبہ، کھلاڑیوں، کوچز اور نوجوان پیشہ ور افراد کو وظائف، تربیت اور دیگر مواقع فراہم کرنے کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نوجوانوں کے تبادلے،مہارتوں کی ترقی، کاروباری سرگرمیوں، جدت، قیادت اور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور مستقبل کی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔
صحت کے شعبے میں تعاون کے حوالے سے مالدیپ کے صدر نے کہا کہ ہم نے مالدیپ کے طلبہ اور طبی ماہرین کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے پر بات کی،اس ضمن میں پاکستان کے تکنیکی معاونت پروگرام کےتحت ایم بی بی ایس کی نشستوں میں اضافے اور مالدیپ کے میڈیکل گریجویٹس کے لیے پاکستان میں انٹرن شپ کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا۔صدر محمد معیزو نے موسمیاتی تبدیلی کو عالمی سطح پر ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ مالدیپ کے لیے یہ محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کی سلامتی، ترقی اور مستقبل سے براہ راست جڑا ہوا معاملہ ہے۔ انہوں نے تحفظ ماحول، ویسٹ مینجمنٹ، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے مالدیپ میں پانچ سال کے دوران 50 لاکھ درخت لگانے کے ہدف میں مدد کے لیے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اعلان کردہ معاونت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے یہ تعاون مالدیپ کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں مددگار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے پولیسنگ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، فنی و پیشہ ورانہ تعلیم اور ادارہ جاتی استعداد کار بڑھانے کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور دیگر علاقائی و عالمی فورمز پر مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔انہوں نے جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالدیپ تنظیم کی صلاحیت اور خطے کے مشترکہ مسائل کے حل میں اس کے کردار پر یقین رکھتا ہے، مالدیپ سارک کی بحالی کے لیے تعمیری اور فعال کردار ادا کرنے اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر اگلی سارک سربراہی کانفرنس جلد از جلد منعقد کرنے کے لیے سازگار حالات پیدا کرنے پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی، مشترکہ عقیدہ، علم کا تبادلہ اور باہمی احترام تعلقات کو مضبوطی اور پائیداری فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چھ دہائیوں سے مالدیپ کا قابل اعتماد دوست رہا ہے اور دونوں ممالک نے اپنی دیرینہ دوستی کی بنیاد پر شراکت داری کے نئے دور میں داخل ہونے کا عزم کیا ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے مزید مواقع، خوشحالی اور فوائد کا باعث بنے گا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور مالدیپ کی دوستی آنے والی نسلوں تک فروغ پاتی رہے گی۔











