بنکاک،15 اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقل ہو رہا ہے اور خلیجی ممالک، امریکا، چین سمیت دیگر دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
چینل نیوز ایشیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنے شراکت داروں کی مشکل وقت میں معاونت اور مسلسل تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان تمام دوطرفہ شراکت داروں، بالخصوص خلیجی ممالک کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی روابط کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات تجارت اور ترسیلات زر دونوں حوالوں سے اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے بیک وقت آگے بڑھانے پر توجہ دے رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ چین پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ رہی ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر توجہ دی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں موجودہ بنیادی ڈھانچے سے معاشی فوائد حاصل کرنے، کاروباری مواقع بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت کاروباری اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جا رہا ہے اور چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے برآمدات کے لیے مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ پاکستانی قیادت کے امریکی انتظامیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جنہیں اقتصادی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث مختلف خطوں کے درمیان تعاون کی اہمیت مزید بڑھ رہی ہے۔ پاکستان خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے تاکہ تجارتی روابط کو وسعت دی جا سکے اور علاقائی شراکت داری کو مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کے دوروں اور ملائیشیا و انڈونیشیا کی قیادت کے پاکستان کے دوروں سے علاقائی روابط اور تعاون کو فروغ ملا ہے۔ تھائی لینڈ میں قیام کے دوران تھائی وزیر خزانہ سے ملاقات بھی علاقائی اقتصادی تعاون بڑھانے کا موقع فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں مشکلات کے ساتھ نئے تجارتی مواقع بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ پاکستان دیگر علاقائی تجارتی گروپس کے ساتھ روابط بڑھا کر دوطرفہ تجارت کے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ علاقائی منڈیوں کے ساتھ تجارت بڑھانے اور شراکت داری کو متنوع بنانے سے عالمی تجارتی غیر یقینی صورت حال کے اثرات سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔











