اقوامِ متحدہ، 29 اکتوبر (اے پی پی): پاکستان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے مطابق سفارتی کوششوں، ثالثی اور تنازعات کے پُرامن حل کے ذریعے مسلح تنازعات کی روک تھام،خواتین اور بچیوں کو جنگ کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی زور دیا کہ وہ تنازعات کی بنیادی وجوہات،بشمول طویل غیر ملکی قبضے اور حقِ خودارادیت سے انکار، سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ان کوششوں میں خواتین کی بامعنی شرکت کو یقینی بنائے۔
سلامتی کونسل میں ‘‘خواتین، امن اور سلامتی: آئندہ پچیس برس اور وعدوں کی تکمیل کے لیے مؤثر عمل درآمد’’ کے موضوع پر منعقدہ کھلی بحث سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب،سفیر عثمان جدون نے اس امر پر زور دیا کہ خواتین کو محض امن سے مستفید ہونے والوں کے طور پر نہیں، بلکہ امن کی معماروں کے طور پر بااختیار بنایا جانا چاہیے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 1325 کی منظوری کے چھبیس سال مکمل ہونے کے تناظر میں سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اہم اصولی اور قانونی پیش رفت کے باوجود بین الاقوامی وعدوں اور تنازعات سے متاثرہ خواتین کو درپیش زمینی حقائق کے درمیان ایک تشویش ناک خلیج برقرار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ وعدوں کو محض اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر مؤثر عمل درآمد اور زمینی سطح پر قابلِ پیمائش نتائج کے حصول کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین محض تنازعات کا شکار نہیں ہوتیں،بلکہ وہ امن، استقامت اور مفاہمت کےفروغ میں فعال کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی بامعنی شرکت امن عمل کو مضبوط بنانے، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور پائیدار امن و سلامتی کے قیام میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے سے پاکستان کی دیرینہ وابستگی کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات انجام دینے والی پاکستانی خواتین، بالخصوص خواتین پر مشتمل رابطہ ٹیموں، کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان خواتین نے پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کے ذریعے مقامی آبادیوں کا اعتماد حاصل کرنے، کمزور طبقات کے تحفظ اور اقوامِ متحدہ کی امن کارروائیوں کی مؤثریت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سفیر عثمان جدون نے خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کے چاروں بنیادی ستونوں، یعنی شرکت، تحفظ، روک تھام، اور امداد و بحالی، پر ٹھوس پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ خواتین کی بامعنی شرکت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ثالثی، امن مذاکرات اور قیامِ امن کے عمل میں اعلیٰ سطح پر خواتین کی نمائندگی یقینی بنائی جائے اور تنازعات کی روک تھام، مذاکرات، معاہدوں پر عمل درآمد اور مفاہمت سمیت تمام مراحل میں انہیں فیصلہ سازی کا اختیار حاصل ہو۔
خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ تنازعات سے متعلق جنسی تشدد، من مانی حراست اور دیگر خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ان کے مرتکبین کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے غیر ملکی قبضے کے تحت زندگی گزارنے والی خواتین کی حالتِ زار پر بھی فوری بین الاقوامی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
پائیدار اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے رکن ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ صنفی تقاضوں کو مدنظر رکھنے والے قیامِ امن کے اقدامات کو ترجیح دیں اور ان کے لیے لچکدار، کثیر سالہ مالی معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور معاشی خودمختاری میں سرمایہ کاری دراصل پائیدار امن میں سرمایہ کاری ہے۔
ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مواقع اور خطرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت خواتین کی شرکت کو آسان بنانے اور ابتدائی انتباہی نظام کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم،انہوں نے خبردار کیا کہ آن لائن ہراسانی، نگرانی، گمراہ کن اطلاعات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے صنفی بنیادوں پر تشدد سنگین خطرات ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل خواندگی، رازداری کے مؤثر تحفظ اور جوابدہی کے نظام کو یقینی بنایا جائے تاکہ تکنیکی جدت خواتین کے حقوق کے فروغ کا ذریعہ بنے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کو تنازعات کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے اور تنازعات کی روک تھام و حل کی کوششوں میں خواتین کی بامعنی شرکت یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان نے تنازعات کی روک تھام، امن مذاکرات، امن مشنز، قیامِ امن اور تنازعات کے بعد بحالی کے عمل میں خواتین کی مکمل، مساوی، بامعنی اور محفوظ شرکت کے عزم کا اعادہ کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے قرارداد 1325 کے وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے اور امن، انصاف، مساوات اور وقار پر مبنی مستقبل کی تعمیر کے لیے مضبوط سیاسی عزم، مناسب وسائل، جوابدہی اور جامع شراکت داریوں کی ضرورت پر زور دیا۔











