پاکستان کا مسلح تنازعات میں بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور خلاف ورزیوں پر احتساب کا مطالبہ

0

اقوام متحدہ، 26 اکتوبر (اے پی پی) : پاکستان نے مسلح تنازعات سے متاثرہ بچوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے احتساب، بین الاقوامی قوانین کا احترام اور کثیرالجہتی سفارت کاری کے مؤثر کردار کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق مینڈیٹ کے قیام کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے دنیا بھر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں اضافے پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سیکرٹری جنرل کی تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ بچوں کے خلاف 38 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی جا چکی ہے، جو اس مینڈیٹ کے قیام کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں بین الاقوامی انسانی قانون سے مسلسل انحراف، بچوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانے، مصنوعی ذہانت سے مربوط ہتھیاروں سے پیدا ہونے والے نئے خطرات اور مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی سفارت کاری پر اعتماد کے بحران کی عکاسی کرتی ہیں۔

غیر ملکی قبضے کے زیرِ اثر بچوں کی صورتحال کو بالخصوص تشویش ناک قرار دیتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کی صورتِ حال کی جانب توجہ مبذول کرائی، جہاں صرف ایک سال کے دوران بچوں کے خلاف قتل اور جسمانی معذوری سمیت 12 ہزار سے زائد سنگین خلاف ورزیوں کی تصدیق کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچے مسلسل نفسیاتی صدمات اور ناقابلِ تلافی جسمانی اذیتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی شامل ہیں جن کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں اور جو شدید نوعیت کی چوٹوں سے متاثر ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کا تحفظ عالمی برادری کی فوری ترجیح ہونا چاہیے، بالخصوص مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتِ حال میں۔

پاکستان کے قومی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے بتایا کہ پاکستان بچوں کے حقوق کے کنونشن اور مسلح تنازعات میں بچوں کی شمولیت سے متعلق اس کے اختیاری پروٹوکول کا فریق ہے اور ان کی دفعات پر عمل درآمد کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کے قومی کمیشن کے قیام، قومی فوکل پرسن کی نامزدگی اور وینکوور اصولوں کی توثیق سمیت بچوں کے تحفظ کے لیے پاکستان کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔

بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق مینڈیٹ کو مزید مؤثر بنانے اور بچوں کے تحفظ کے نتائج بہتر کرنے کے لیے سفیر عثمان جدون نے سات ترجیحی اقدامات پیش کیے۔ ان میں بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کا مکمل احترام، مسلح تنازعات اور غیر ملکی قبضے کے مسائل کا بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ حل، اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی ذہانت کی جامع اور مؤثر حکمرانی، سنگین خلاف ورزیوں کی شفاف نگرانی، دستاویز بندی اور تصدیق؛ تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی میں عدم مساوات کا خاتمہ، بالخصوص معذور بچوں کی ضروریات کو ترجیح دینا، بچوں کے تحفظ کے اقدامات میں قومی سطح پر ذمہ داری اور استعداد کار کو مضبوط بنانا اور استثنیٰ کے خاتمے کے ذریعے جوابدہی کو یقینی بنانا شامل ہیں۔

ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں مضبوط ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے اور سستی رابطہ سہولیات کی فراہمی پر زور دیا، تاکہ بالخصوص معذور بچوں کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق مینڈیٹ کی 30ویں سالگرہ گزشتہ تین دہائیوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے، حاصل شدہ اسباق سے استفادہ کرنے اور مسلح تنازعات سے متاثرہ بچوں کے تحفظ کے لیے عالمی عزم کی تجدید کا ایک اہم موقع ہے۔

انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان اور بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ کے دفتر کے ساتھ تعمیری روابط جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ عالمی برادری کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں بچوں کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے لیے ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل یقینی بنایا جائے۔