پی ٹی آئی  ثابت کرے کہ  صوبے کے حالات کو بہتر کرے گی تو وزیراعظم سے خود کہوں گا کہ ایمرجنسی اٹھا لی جائے، بلاول بھٹو زرداری

5

اسلام آباد،14اکتوبر  (اے پی پی):پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے خود اپنی صوبائی حکومت پر خود کش حملہ کیا ، یہ اقدام  بوجھل دل کے ساتھ اٹھایا گیا ہے کیونکہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریزاں تھی، اب بھی وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ بات چیت کا عمل دوبارہ شروع کیا جائے، پی ٹی آئی اپنے طرز عمل سے ثابت کرے کہ وہ صوبے کے حالات کو بہتر کرے گی تو وزیراعظم سے خود کہوں گا کہ ایمرجنسی اٹھا لی جائے، دہشتگردوں کا مقابلہ کرنے میں ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، یہ ہمارا ہی نہیں اپوزیشن کا بھی ملک ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے قرارداد کے حق میں بات کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ آئین میں اس اقدام کی اجازت ہے لیکن میں اس معاملے پر بڑے بوجھل دل سے بات کر رہا ہوں ، انہوں نے آئین کا آرٹیکل 232 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین صدر مملکت کو ان حالات میں اس اقدام کی اجازت دیتا ہے ،حکومت نے اس اقدام سے پہلے ہر کوشش کی کہ یہ قدم نہ اٹھانا پڑے ،اپوزیشن کی ذمہ دارانہ قیادت جانتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت نے خود ایک سیاسی خودکش حملہ کیا ہے ،یہ اب وفاقی حکومت اور صدر پر الزام لگا سکتی ہے مگر انہیں معلوم ہے کہ اس کا اصل ذمہ دار کون ہے ،صدر پاکستان اگر اس سمری پر دستخط نہ کرتے تو انہیں وجہ بھی بتانی چاہیے تھی کہ ہم یہ اقدام کیوں نہ اٹھاتے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ بات ہمارے سامنے آئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ایمرجنسی لگانے سے پہلے پی ٹی آئی کو پورا موقع دینا چاہیے ،ہم یہ قدم نہیں اٹھانا چاہتے تھے ،رات دیر تک پی ٹی آئی رہنماؤں سے مذاکرات ہوتے رہے اور یہی اطلاعات تھیں کہ مذاکرات کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اور صوبائی سطح پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بات پر اپوزیشن آمادہ ہو چکی تھی۔  انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے لیے سیاسی گنجائش محدود ہوتی ہے اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں مگر یہ بھی اس سے انکار نہیں کر سکتے ہم نے مشکل آئینی فیصلہ اس لیے لیا کیونکہ افغانستان کے ساتھ جنگ کی صورتحال ہے اور کے پی کے وزیراعلیٰ نے جلسہ عام میں کھڑا ہو کر لوگوں سے حلف لیا کہ دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کروں گا ،یہ سیاسی خودکشی تھی، سیاسی مفاہمت کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے، اس کے 100 فیصد نتائج نہ بھی نکلے تو کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئے گی۔  انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے 1973 کا آئین بحال کیا اور 18ویں ترمیم منظور کرائی۔  انہوں نے کہا کہ ان کے لیے اپنے طرز عمل کے بعد ہی یہ آئینی اقدام اٹھایا گیا ہے۔  انہوں نے تجویز دی کہ اب بھی وفاقی حکومت کوئی درمیانی راستہ اختیار کرنے کے لیے اپوزیشن سے بات چیت کرے۔  انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے ایمرجنسی جاری نہیں رکھی جا سکتی اگر واقعی ہم نے خیبر سے خضدار تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے تو پورے ملک کے عوام کو مل کر کرنا ہوگا، یہ صرف پولیس اور فوج کی ذمہ داری نہیں ،  ماضی میں بھی ہم نے دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کیا اور کامیاب ہوئے۔  انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو اپنی شکست نہیں بھولی،  اب بھی مودی کہتا ہے کہ آپریشن سندور جاری ہے،  بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کو سپورٹ کر رہا ہے ، افغانستان میں جو حالات بن رہے ہیں اس میں بھارت کا کردار ہے،  پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان امن قائم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی جس پر صیہونی طاقتیں بھی پاکستان میں خونی کھیل کی سازشوں میں لگی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے میں ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،  یہ صرف ہمارا نہیں اپوزیشن کا بھی ملک ہے،  ہم سب کو مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دعوت دیتا ہوں کہ بات چیت کا عمل شروع کرے اور کے پی کے حالات سے ثابت کریں تو میں خود وزیراعظم سے گزارش کروں گا کہ اب وہاں ایمرجنسی کی ضرورت نہیں رہی۔