اسلام آباد، 22 اکتوبر (اے پی پی) : چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو سے ملاقات کی ، جس میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے، پارلیمانی سفارت کاری کے فروغ، تجارتی و معاشی تعاون میں اضافے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ روابط کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی، سفارتی اور معاشی تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں اور ان تعلقات کو نئی جہتوں سے ہمکنار کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک 2026ء میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 60ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو باہمی دوستی اور تعاون کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ پارلیمانی سفارت کاری پاکستان اور مالدیپ کے درمیان باہمی اعتماد، افہام و تفہیم اور ادارہ جاتی روابط کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی وفود کے تبادلوں، پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور قائمہ کمیٹیوں کے مابین روابط کے ذریعے دوطرفہ تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔
سید یوسف رضا گیلانی نے تجارتی تعلقات کے فروغ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ادویہ، ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، گوشت، پھلوں اور سبزیوں کی مالدیپ کی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے کر دونوں ممالک کے لیے معاشی ترقی کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے فضائی اور سمندری راستوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے فروغ پر زور دیا تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے مالدیپ کے صدر نے چیئرمین سینٹ کے خیالات سے اتفاق کیا اور تجویز کو سراہا۔
چیئرمین سینیٹ نے مزید کہا کہ تعلیم، صحت، نوجوانوں کی ترقی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں تعاون دونوں ممالک کے لیے سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ عوامی روابط، ثقافتی تبادلوں اور نوجوانوں کے درمیان میل جول کو فروغ دینا بھی دونوں اقوام کے مابین دوستی کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ہوگا۔
علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہیں اور کی جانب سے جاریت کے موقع پر پاکستان نے ایک ذمہ دار ملک کا ثبوت دیا ۔
مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھنے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ پاکستان کے ساتھ پارلیمانی، سفارتی اور معاشی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
صدر مالدیپ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ ان مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ اعلیٰ سطح کے مسلسل روابط، پارلیمانی وفود کے تبادلوں، تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے ذریعے پاکستان اور مالدیپ کی دیرینہ دوستی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان مستحکم شراکت داری نہ صرف دونوں اقوام کی خوشحالی بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگیں ،مالدیپ کے صدر نے چیئرمین سینیٹ کو مالدیپ کے دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات میں چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاع سینیٹر طلحہ محمود، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر فیصل سلیم رحمان، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور سینیٹر آغا شاہ زیب درانی، سیکرٹری سینیٹ سید حسنین حیدر اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔











