پاکستان کو سو فیصد کیش لیس معیشت بنانے کا عزم، وزیراعظم نے واضح لائحہ عمل اور مقررہ مدت کے اہداف طلب کر لیے

8

اسلام آباد،06 نومبر (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک میں سو فیصد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے قیام کے لیے متعلقہ حکام کو واضح لائحہ عمل اور مقررہ مدت کے ساتھ اہداف پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیش لیس معیشت کا فروغ حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں سے ایک ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

جمعہ کو یہاں وزیراعظم کی زیرِ صدارت ملک میں کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، شزا فاطمہ خواجہ، عطاء اللہ تارڑ، جنید انور چوہدری، علی پرویز ملک، سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، تمام صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے وزارتِ خزانہ اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں کی جاری کامیاب کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں صارفین کو درپیش مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں اور ملک بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی اور عوام کی ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنائی جائے۔

وزیراعظم نے راست کیو آر کوڈ (Raast QR Code)

کے ذریعے صارفین اور مرچنٹس کے درمیان ڈیجیٹل ادائیگی کو فروغ دینے کی اسکیم کو حکومتی سرپرستی میں جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کا نظام حکومت کے کیش لیس معیشت کے وژن کے حصول میں اہم معاون ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بجلی اور گیس کے صارفین کو یوٹیلیٹی بلوں پر درج کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں کرنے کی ترغیب دینے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے اور تمام وزارتوں و سرکاری اداروں کو کیش لیس اکانومی کے پلان پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو کیش لیس معیشت کے فروغ کے حوالے سے جاری اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تمام وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں میں ادائیگیوں کی ڈیجیٹائزیشن پر کام تیزی سے جاری ہے اور بیشتر اداروں میں دسمبر 2026ء تک تمام ادائیگیاں مکمل ڈیجیٹائز ہو جائیں گی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی سو فیصد ادائیگیاں بذریعہ ڈیجیٹل والٹ کی جا رہی ہیں جبکہ انٹرنیٹ کی عدم موجودگی میں ڈیجیٹل ادائیگی کے لیے جدید نظام متعارف کرانے اور پورے ملک میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے انفراسٹرکچر کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 15 نومبر 2026ء سے بذریعہ چیک آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی ادائیگیاں ختم کی جا رہی ہیں، جبکہ 16 نومبر سے پورے ملک میں آسان اسائنمنٹ اکاؤنٹس کی تمام ادائیگیاں بذریعہ راست ڈیجیٹل نظام کی جائیں گی اور اس سلسلے میں ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ افسران (DDOs) کو تربیت دی جا چکی ہے۔