لاہور، 04 نومبر ( اے پی پی ): رکنِ صوبائی اسمبلی چوہدری افتخار حسین چھچھر کی زیرِ صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے اراکین جاوید علاؤالدین ساجد،سعید اکبر خان، غزالی سلیم بٹ، راؤ کاشف رحیم خان، رائے نبیل احمد، محمود احمد، رخسانہ کوثر، محمد جہانزیب خان کھچی اور میاں یاور زمان نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ داخلہ کے اعلیٰ افسران، متعلقہ ضلعی حکام اور آڈٹ و فنانس ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔
کمیٹی نے محکمہ داخلہ، اس کے ذیلی محکموں اور خودمختار اداروں سے متعلق مختلف آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا اور ان پر تفصیلی بحث کی۔ زیرِ غور معاملات میں نیو سنٹرل جیل بہاولپور، ڈی پی اوز رحیم یار خان اور لودھراں، آر پی او راولپنڈی، سی ٹی او لاہور، ایس پی/کمانڈر بٹالین پی سی بٹالین نمبر 3 ملتان، ایس پی اسپیشل برانچ بہاولپور اور ایس ایس پی اسپیشل برانچ ساہیوال ریجن سے متعلق آڈٹ پیراز شامل تھے۔
اجلاس میں سرکاری واجبات کی عدم وصولی، خریداری اور اخراجات میں بے ضابطگیوں، پٹرول، آئل اور لبریکنٹس (پی او ایل) کے ضرورت سے زیادہ استعمال، ٹیکسوں کی عدم یا کم کٹوتی، مشکوک ادائیگیوں، سرکاری املاک کے نقصان، محکمانہ وصولیوں کے بے ضابطہ استعمال، آڈٹ کے لیے قابلِ جانچ ریکارڈ پیش نہ کرنے اور دیگر مالی و انتظامی بے ضابطگیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کمیٹی نے متعلقہ افسران اور آڈٹ و فنانس ڈیپارٹمنٹس کے نمائندگان کی موجودگی میں ان معاملات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے بعض آڈٹ پیراز نمٹا دیے، جبکہ دیگر معاملات میں چیئرمین نے متعلقہ حکام کو تفصیلی انکوائری/تحقیقات کرکے نتائج پیش کرنے کی ہدایت کی تاکہ فنانس ڈیپارٹمنٹ مزید غور و خوض اور ضروری کارروائی کر سکے۔
چیئرمین نے ون سٹی سے متعلق معاملے میں پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کی عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ ایجنڈا آئٹم کو افسر کی عدم موجودگی کے باعث اگلے روز تک مؤخر کرنے کی ہدایت کی۔
چیئرمین نے مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب، سرکاری واجبات کی بروقت وصولی اور آڈٹ اعتراضات پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو تمام زیرِ التوا معاملات پر مناسب کارروائی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔











