قلعہ عبداللہ میں مظاہرین اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات، پہلا دور مثبت پیش ر فت کے ساتھ اختتام پذیر، دوسرے دور میں مزید پیش رفت کی امید ہے، میر ضیا اللہ لانگو

6

کوئٹہ، 05 نومبر  (اے پی پی): صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی قیادت میں حکومتی وفد نے قلعہ عبداللہ میں متعدد افراد کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مذاکرات کیے۔ حکومتی وفد میں صوبائی وزیر صحت بخت خان کاکڑ، رکن صوبائی اسمبلی اسفندیار کاکڑ اور رکن صوبائی اسمبلی زمرک خان اچکزئی بھی شامل تھے۔اس موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں آپ کے دکھ اور غم میں شریک ہونے، آپ کے مسائل سننے اور آپ کے تحفظات دور کرنے کے لیے آئے ہیں۔حکومتی وفد نے مظاہرین کے مطالبات اور تحفظات کو نہایت سنجیدگی سے سنا اور ان کے حل کے لیے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ حکومتی وفد اور مظاہرین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مثبت پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت بخت خان کاکڑ نے کہا کہ مذاکرات کا پہلا دور مثبت رہا ہے اور انہیں امید ہے کہ دوسرے دور میں بھی مزید پیش ر فت ہوگی اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے میں مدد ملے گی۔معاون برائے داخلہ حکومت بلوچستان بابر یوسفزئی نے کہا کہ صوبائی حکومت مسئلے کے پرامن حل اور مظاہرین کے جائز تحفظات دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ حکومت تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کے ذریعے قابل قبول حل نکالنے کی خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان شا اللہ مذاکرات کے دوسرے دور میں مزید مثبت پیش رفت ہوگی اور حکومت مظاہرین کے تحفظات دور کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔