اسلام آباد، 02نومبر (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سے بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی راشد الحمود تیتومیر نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی، جس میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی و صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے، برآمدات پر مبنی ترقی، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہارون اختر خان نے بنگلہ دیشی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات مشترکہ ثقافتی ورثے اور تاریخی روابط پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داری کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانے اور اقتصادی تعاون کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔ حکومت پاکستان سرمایہ کاری میں سہولت، صنعتی ترقی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرا رہی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ہارون اختر خان نے پاکستان کے آٹو موٹیو، الیکٹرک گاڑیوں، صاف توانائی اور سولر ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جاری اقدامات سے بنگلہ دیشی وفد کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی انرجی وہیکل پالیسی، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے سولر ٹیکنالوجی، بیٹری مینوفیکچرنگ، الیکٹرک گاڑیوں اور صنعتی ترقی کو پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیتے ہوئے کہا کہ مشترکہ منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے دونوں ممالک باہمی ترقی کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی راشد الحمود تیتومیر نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے برادرانہ جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ملک کے اقتصادی تجربات اور صنعتی و مینوفیکچرنگ شعبوں میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے صنعت و تجارت رانا احسان افضل، وزارت صنعت و پیداوار کی ایڈیشنل سیکریٹری حمیرا ضیاء مفتی اور جوائنٹ سیکریٹری فریدون اکرم شیخ بھی موجود تھے۔ فریقین نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی روابط مستحکم بنانے اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔











