سکھر،4مارچ(اے پی پی):سندھ ہائی کورٹ سکھر نے نیب کی خورشید احمدشاہ کی ضمانت کے خلاف دائر درخواست نمٹادی،خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کا حکم کالعدم قرار دے دیا، بدھ کے روزسندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے سکھر کی احتساب عدالت کی جانب سے سید خورشید احمد شاہ کی پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض ضمانت پر رہائی کے حکم کے خلاف قومی احتساب بیورو سکھر کی جانب سے دائر کی گئی
درخواست کی سماعت کی سماعت کے دوران خورشید شاہ کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر پیش ہوئے اور دلائل دیئے نیب پراسیکیوٹر نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ خورشید شاہ اور ان کے 18 ساتھیوں کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد آمدن کے اثاثے بنانے کا ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے اور ملزم اس وقت گرفتار ہے جبکہ خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے خورشید شاہ کی ضمانت کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کررکھی ہے اب تک نیب ملزم پر الزام ثابت نہیں کرسکی ہے
عدالت عالیہ نے دو طرفہ دلائل کی سماعت کے بعد احتساب عدالت کی جانب سے سید خورشید احمد شاہ کو پچاس لاکھ روپے کے مچلکوں کے عیوض دی گئی ضمانت کے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہوئے نیب کی درخواست نمٹادی، ر نیب نے ان کی ضمانت پر رہائی کے حکم کو سندھ ہائی کورٹ کراچی میں چیلنج کیا اور اس کے خلاف درخواست دائر کی تھی جسے سندھ ہائی کورٹ کراچی نے سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ کو منتقل کردیا تھا جس پر آج عدالت عالیہ نے فیصلہ سنا، سید خورشید احمد شاہ اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر سکھر کی این آئی سی وی ڈی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
:وی این ایس سکھر











