اسلام آباد ۔ 13 مارچ (اے پی پی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت بچوں کی تعلیم کو ترجیح دیتی ہے، انڈرگریجوایٹ سکالر شپ کے لئے 5 ارب روپے مختص کئے ہیں جس کا زیادہ تر حصہ طالبات کو سکالرشپس میں دیا جائے گا۔ جمعہ کو وہ یو کے ایڈ کے زیر اہتمام بچوں کی تعلیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ قوم کی ہر بچی کو تعلیم دی جائے ،بچیوں کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کی خواہش میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچیوں کے سیکنڈری سکولوں کا گھروں سے دور ہونا بھی ایک مسئلہ ہے۔ حکومت تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو شام کے وقت سیکنڈری کے تعلیم کے لئے مختص کرنے پر غور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے حکومت نے انڈر گریجوایٹس سکالر شپ کے لئے 5 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اس سکالرشپ کا زیادہ ترحصہ بچیوں کی تعلیم پر خرچ ہو گا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پوری دنیا میں کروناوائرس کی وجہ سے تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ بہت سے ممالک میں تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھی مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹرکرسٹین ٹرنر نے کہا کہ خواتین کی تعلیم برطانوی حکومت کی ترجیحات میںشامل ہے۔ کسی ملک کی ترقی کے لئے لازم ہے کہ بچیوں کو سیکنڈری تک تعلیم دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ اس وقت ہم پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لئے بات کررہے ہیں۔ دنیا کی ہر لڑکی کو 12 سال کی بنیادی تعلیم لازمی دی جائے۔ ڈاکٹر کرسٹین ٹرنر نے کہا کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک خواتین کی تعلیم پر خرچ کئے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔ پسماندہ علاقوں کی بچیوں کو معیاری تعلیم دینے کے لئے ہم متحد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ 10 ملین پرائمری سطح اور 5 ملین سیکنڈری سطح کی تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو شام کے وقت سیکنڈری لیول کی تعلیم کے لیے مختص کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔
اے پی پی/ضیا /ریحانہ











