لاک ڈاون میں تبدیلی حالات کے مطالعہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی مشاورت سے کر رہے ہیں: وزیراعلیٰ محمود خان

104

پشاور،16اپریل(اے پی پی): خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے سلسلے میں لاک ڈاون میں تبدیلی حالات کے مطالعہ اور اس وبا سے نمٹنے والی فرنٹ لائن یعنی محکمہ صحت کے اعلی حکام کی مشاورت سے کر رہے ہیں اور ہم اللہ سے پرامید ہیں کہ بہت جلد یہ حالات درست ہو جائیں گے اور ہم معمول کے مطابق زندگی بسر کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے مٹہ ہاسپٹل میں کرونا سے نمٹنے کیلئے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے کیا، اس موقع پر وفاقی وزیر مرادسعید ، ایم پی اے شرافت خان، ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر محمد اکرم شاہ کے علاوہ دوسرے اعلیٰ حکام اور مقامی مشران بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ نے اپنی پارٹی کے ورکرز سے بھی اپیل کی کہ وہ اس کڑی حالات میں عوام کے خدمت  اور حالات کو سدھارنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں، انہوں نے مزید کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر اور ضروری اقدامات اٹھانے کے بعد ہی ہم عوام کی صحیح  خدمت کر سکتے ہیں، اس لئے تمام پروٹوکولز کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر محمد اکرم شاہ نے وزیر اعلیٰ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مٹہ ہسپتال میں کرونا وائرس سے متعلق حالات کے پیش نظر دس بستروں پر مشتمل  انتہائی نگہداشت کی سہولت موجود ہے جب کہ ضرورت پڑنے پر چالیس 40،40  بستروں پر مشتمل دو مزید وارڈ بھی اس کیلئے فوری طور پر فراہم کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں ہر قسم کی ضروریات اور اور حفاظتی اقدامات موجود ہیں، کام کرنے والے محکمہ صحت کے اہلکاروں کو کوئی خاص مشکل درپیش نہیں۔

وزیر اعلیٰ   نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ مٹہ ہسپتال کی اپ گریڈیشن پر کام جاری ہے اور حالات سدھرنے کے بعد جلد ہی  یہ ہسپتال مزید جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے گا۔

عوام کے مطالبہ پر ڈاکٹروں کی کمی سے متعلق وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دو ڈاکٹروں کی فوری طور پر تعیناتی کی جائے، بعض کوارٹرز کی طرف سے منظور شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلی نے ضلعی صحت افسر کو ہدایت کی کہ مبینہ طور پر پریکٹس کرنے والے غیر معیاری اور نان کوالیفائیڈ افراد کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صرف محکمہ صحت سے منظور شدہ افراد ہی لوگوں کی صحت سے متعلق مشورے دینے کے اہل ہیں اور کسی بھی غیر ذمہ دار شخص کو صحت سے متعلق کلینک یا پریکٹس کی اجازت نہیں ہے۔

اے پی پی /صائمہ حیات /حامد