لاک ڈاؤن سے کرونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا مگر مزید پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے:صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا

123

پشاور، 16اپریل(اے پی پی): خیبرپختونخوا میں کورونا سے متعلق اعدادوشمار کے لیے نیا ڈیٹا انٹری نظام شروع کیا ہے جس سے تمام اضلاع اور لیبارٹریز سے بروقت ڈیٹا لینے میں مدد حاصل ہو گی۔ لاک ڈاؤن سے وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا ہے تاہم اس کا مزید پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔صوبائی حکومت کی ساری مشینری کورونا کے خاتمے کے لیے حرکت میں ہے۔ وزیرِاعلیٰ تمام کورونا تدارک اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور تمام متعلقہ محکموں سے روزانہ کی بنیاد پر بریفنگ لے رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے پشاور میں مشترکہ بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کورونا وائرس سے متعلق تازہ اعدادوشمار کے حوالے سے  بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت 912 مصدقہ مریض ہیں جبکہ اب تک 191 افراد کورونا کو شکست دے کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔ صوبے میں اب تک 42 افراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں۔ تیمور جھگڑا نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ہم نے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں روایتی سیاست، رویے، رابطے اور راستے چھوڑنے ہوں گے اور احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے سماجی فاصلے اختیار کرنے ہوں گے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے عوام اور میڈیا کو شفاف اعدادوشمار دیئے جا رہے ہیں۔ کورونا سے متعلق اعدادوشمار کے لیے نیا ڈیٹا انٹری نظام شروع کیا ہے جو کہ جس سے مشتبہ، مصدقہ مریضوں اور لیبارٹریز رپورٹس سے متعلق ڈیٹا بروقت میسر ہوگا۔ وزیر صحت کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ کم ہوا ہے تاہم اس کے مزید پھیلاؤ کا خطرہ موجود ہے۔ گزشتہ ہفتے خیبرپختونخوا میں 362 کیسز سامنے آئے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ اب تک پشاور اور مردان میں سب سے زیادہ کنفرم کیسز سامنے آ ئے ہیں تاہم مردان میں گزشتہ 7 دن میں صرف 2 نئے کیسز سامنے آئے ، صوبائی دارالحکومت پشاور قومی سطح پر کراچی اور لاہور کے بعد تیسرا زیادہ متاثرہ ضلع ہے۔ صوبائی وزیر نے میڈیا نمائندگان کو بتایا کہ صوبے کے چھ اضلاع جن میں اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر کوہستان، کولئی پالس اور بٹ گرام شامل ہیں میں تاحال کوئی کورونا کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ ان اضلاع کے لیے الگ حکمت عملی بنائی ہے تاکہ یہ آئندہ بھی وائرس فری رہیں۔

 وزیر صحت نے کہا کہ کورونا وائرس کے تدارک کے ساتھ صوبے کی معیشت اور تاجر برادری کے لیے بھی اقدامات اٹھانے ہیں۔ گزشتہ روز تاجر تنظیموں کے ساتھ ملاقات کی تھی اور ان کے مسائل سنے ہیں۔ ایک طریقہ کار اور حکمت عملی کے ساتھ کاروبار کھولیں گے جس میں غلطی کی کم سے کم گنجائش ہو۔ صوبائی وزیر نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال سےصوبے کے اگلے مالی سال کے بجٹ پر بوجھ پڑے گا تاہم جاری بڑے پراجیکٹس کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔

 تیمور جھگڑا نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پانچ بڑے اقدامات اٹھائے ہیں جن میں لوکل سکیم، ریپڈ رسپانس ٹیموں، آئسولیشنز اور قرنطینہ مراکز، ٹیسٹنگ استعداد اور احساس پروگرام شامل ہے۔ لوکل سکیم کے تحت موجودہ صحت عملے کے بیک اپ کے مزید عملے کی بھرتی کی جائے گی۔ گزشتہ چند دن میں 16 ہزار سے زائد اسپیشلسٹ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر عملے نے اس سکیم کے تحت انلائن اپلائی کیا ہے۔ اگلے ماہ ان کے انٹرویوز کریں گے اور جن اضلاع میں صحت عملے کی کمی ہوگی وہاں انہیں بھیجا جائے گا۔ اسی طرح صوبے میں ریپڈ رسپانس ٹیموں بنا رہے ہیں جو کہ فون کال پر کسی بھی مریض کے گھر جائیں گی۔ تیمور جھگڑا نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت 200 آئسولیشنز ہیں جن میں 4093 مریضوں کی گنجائش ہے جبکہ 296 قرنطینہ مراکز ہیں۔ صوبے میں 550 سے زائد وینٹی لیٹرز بھی موجود ہیں جن کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے اپنے فنڈز سے اب تک 3.8 ارب روپے کا ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ایز) کی خریداری کی ہے اور صوبے کے ہسپتالوں کو اب تک ساڑھے 7 لاکھ سے زائد دستانے، 7 لاکھ سے زائد 3 پلائی ماسک، 37 ہزار سے زائد این 95 ماسک پہنچا دئیے گے ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز اور صحت عملے کی حفاظت کے لیے خطیر رقم خرچ کررہی ہے اور اس میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گی۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکس اور دیگر صحت عملہ ہمارے ہیروز ہیں۔ کورونا ٹیسٹنگ کے حوالے سے تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ رواں ماہ صوبے کی کورونا ٹیسٹنگ استعداد 2 ہزار ٹیسٹ یومیہ ہو جائے گی۔ ہم اپنی محنت اور احتیاط سے اس وباء کا مقابلہ کریں گے۔

اے پی پی /صائمہ حیات/حامد