ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس، کوویڈ۔19پر بحث کی گئی

131

اسلام آباد، 11 مئی (اے پی پی ): قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے لئے پینل آف چیرپرسن تشکیل کیا جس میں  امجد علی خان، محمود ورک، حسین الہی، غلام مصطفی، عمران خٹک اور نقیسہ خٹک پینل آف چیرمین میں شامل ہیں۔

قومی اسمبلی اجلاس میں کیچ میں پاک فوج کے شہید نوجوانوں ، لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ، نور عالم خان، سینیٹر فیصل جاوید، سینیٹر بابر اعوان کی والدہ ، سینیٹر مراد علی شاہ کے انتقال پر ایوان میں دعائے مغفرت کروائی گئی۔  کورونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے لئے دعائے مغفرت کی گئی ۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت تمام ارکان سمیت متاثرہ مریضوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی گئی،دعا ایم ایم اے رکن مولانا عبدالکبر چترالی نے کرائی۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے وقفہ سوالات، توجہ دلاو نوٹس، نجی کارروائی کے دن کے حوالے سے تحاریک التوا، ایوان میں پورے سیشن کے لئے معطل کرنے کی تحریک پیش کی ۔قومی اسمبلی کے معمول کے ایجنڈے کو معطل کرنے کی تحریک متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ۔

قومی اسمبلی میں کوویڈ۔19پر بحث کی تحریک پیش کی گئی ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے ایوان کو کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے کہا  اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا کورونا وائرس   کی لپیٹ میں ہے ، دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ سب سے بڑا بحران ہے ۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کی مشاورت کے بعد پارلیمنٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اجلاس بلایا گیا ،اس ایوان میں کووڈ 19 کا پس منظر پیش کرنا چاہتا ہوں ۔اس وقت مختلف تدابیر کی جارہی ہیں مگر ابھی تک ماہرین اس کا علاج تلاش نہیں کرسکے،اس کی ویکسین آنے میں 18 ماہ سے 2 سال لگ سکتے ہیں، ایسی صورتحال میں معاشی پہیے کو بھی چلانا ہے ۔اس وقت کیفیت یہ ہے کہ 209 ممالک اس وبا کا شکار ہوچکے ہیں اور 40 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں  جبکہ 2لاکھ 80 ہزار 700 اموات بھی اس وبا کی وجہ سے ہوچکی ہیں ۔

انہوں نے کہا پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت زیادہ بڑا ردعمل دیا، کیس آتے ہی نیشنل سیکیورٹی کونسل کا اجلاس بلایا گیا ۔ اس اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان کے وزیر اعلی اور آزاد کشمیر کے وزیراعظم کو بھی مدعو کیا گیا ۔ اس مشاورت کے بعد این سی او سی مرتب کی گئی اور تمام اکائیوں کو اس میں نمائندگی دی گئی ۔ روزانہ کی بنیاد پر اس کا اجلاس ہورہا ہے، این ڈی ایم اے سمیت دیگر متعلقہ ادارے اس کے سٹیک ہولڈرز ہیں ۔ ہم اس وجہ سے قومی حکمت عملی مرتب کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 18  ویں ترمیم کو جانتے ہوئے صحت عامہ میں صوبوں کے لئے لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب میں وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ  یہ وبا صرف لاک ڈاؤن سے ختم نہیں ہوتی کیونکہ اچانک یہ وبا دوبارہ بڑھ جاتی ہے ۔خیبر پختونخوا میں 14 اسپتال اور ٹراماسینٹر قائم کئے گئے ہیں  ۔ایس ڈی پی آئی لاک ڈاؤن کو مزید بڑھایا گیا تو 9 لاکھ کاروبار مستقل بنیاد پر ختم ہوجائیں گے۔جو بھی اقدام کیا جارہا ہے وہ تمام اکائیوں کے ساتھ مل کر کیا جارہا ہے ۔1200 ارب کا امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ۔1 کروڑ 20 لاکھ افراد کو مدد فراہم کی جارہی ہیں،40 سے 60 لاکھ بے روزگار لوگوں کو بھی براہ راست امداد فراہم کرینگے جبکہ چھوٹا کاروبار پیکج متعارف کرایا ہے۔

وفاقی  وزیربرائے واصلات مرادسعید نےقومی اسمبلی میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک  کےہیلتھ سسٹم بھی کورونا کے آگے بے بس ہیں،کورونا سے متعلق حکومت نے بہترین اقدامات  کیے ہیں۔انہوں نے بتایا 2 ماہ کے اندر سینی ٹائزر بنا کر ایکسپورٹ کرنے لگے ہیں، 2ماہ میں جو کام حکومت نے کیے وہ 70سال میں نہیں ہوئے۔وزیراعظم نے سب سے پہلے ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان کیا، جس کو دنیا نے سراہا ہے۔

اے پی پی /صائمہ/قرۃالعین