اسلام آباد ، 14 مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ نویں اور گیارہویں جماعت کا رزلٹ رکھنے والے طلباء کو اگلی جماعتوں میں پروموٹ کر دیا جائے گا، گیارہویں اور بارہویں کا ایک ساتھ امتحانات دینے والے طلباء کے مخصوص امتحانات ستمبر اور نومبر میں ہوں گے، گیارہویں کے رزلٹ سے نہ مطمئن، گیارہویں کا رزلٹ نہ رکھنے والے اور چند مضامین کا امتحانات دینے کے خواہشمند طلباء بھی مخصوص امتحانات میں حصہ لے سکیں گے۔
جمعرات کو وفاقی وزیر تعلیم نے یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص امتحانات میں حصہ لینے والے طلباء یکم جولائی تک اپنے تعلیمی بورڈز کو آگاہ کر دیں، مخصوص امتحانات لینے کا فیصلہ بھی اس وقت حالات کا جائزہ لے کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جمعرات کو بلائے جانے والے اجلاس میں تمام صوبائی وزیر تعلیم کو بلایا گیا تھا تمام فیصلے باہمی اتفاق رائے اور مشاورت سے کئے گئے، بچوں کی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے پاس نویں اور گیارہویں کا رزلٹ موجود ہے ان کو دسویں اور بارہویں جماعت میں ترقی دے دی گئی ہے۔ ان بچوں کے گزشتہ سال کے نمبر شمار کئے جائیں گے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ نویں کے مقابلہ میں دسویں کا رزلٹ بہتر ہوتا ہے اس لئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ دسویں کے نمبروں میں تین فیصد اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ چالیس فیصد مضامین میں فیل طلباء کو پاسنگ مارکس دیئے جائیں گے۔ گیارہویں اور بارہویں کے ایک ساتھ امتحانات دینے والے طلباء کے مخصوص امتحانات ہوں گے، مخصوص امتحانات ستمبر اور نومبر میں ہوں گے۔ گیارہویں میں اپنے رزلت سے مطمئن نہ ہونے والے طلباء بھی مخصوص امتحانات دے سکیں گے جن کے پاس گیارہویں کا رزلت نہیں ہے، ان کے بھی امتحانات ہوں گے اور جو چند مضامین کا امتحان دینا چاہتے ہیں وہ بھی مخصوص امتحانات میں حصہ لے سکیں گے۔
وفاقی وزیر تعلیم نے طلباء کو ہدایت کی کہ مخصوص امتحانات میں حصہ لینے والے طلباء یکم جولائی تک اپنے متعلقہ بورڈز کو آگاہ کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص امتحانات کا بھی ہم حالات کا جائزہ لے کر کریں گے۔ یونیورسٹیوں کے بارے میں ایک سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ یونیورسٹیوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریں، اس بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے ایچ ای سی کو ہدایت کی ہے، ایچ ای سی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کریں۔
اے پی پی/ ڈیسک/حامد











