لاہور،3اکتوبر( اے پی پی ):وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان کی قیادت میں ریاست کے تمام ستون اکٹھے ہیں، تمام آئینی ادارے مل کر مشکل مسائل حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، آج ملک میں استحکام اور تعلیم کے میدان میں اقدامات کی بدولت کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ہمارے سیاسی حریف عدلیہ، فوج اور آئینی اداروں کو متنازعہ بنا کر ملک کونقصان پہنچا رہے ہیں۔
وہ ہفتہ کو یہاں ادارہ تحقیقاتی اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی،سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن(ایس ایس ڈی او) اور انٹر یونیورسٹی کنسورشیم فار سوشل سائنسز کے اشتراک سے انسداد انتہا پسندی اور امن کے فروغ کےلئے “وائس چانسلرز کنونشن” کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19کے بعد تعلیم کے شعبہ میں بھی بڑا چیلنج تھا، آنے والے وقت میں فاصلاتی نظام تعلیم کا کردار بڑھے گا، تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے حامی ہیں لیکن ان سرگرمیوں کی آڑ میں سیاسی چپقلش کو پروان نہیں چڑھنے دیں گے،وائس چانسلر،والدین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد یونینز کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے، وفاقی وزارت تعلیم یکساں نصاب تعلیم لارہی ہے۔
وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ وزارت تعلیم کا تعاون وفاقی اور صوبائی یونیورسٹیوں کو حاصل ہے، ہماری کوشش ہے کہ یونیورسٹیوں اور وزارت کے درمیان فاصلے کم سے کم ہوں اور اس کے حامی ہیں کہ یونیورسٹیوں کی خود مختاری پر حاوی نہ ہوں، اچھی تجویز دی گئی کہ ایک روزہ وائس چانسلر منعقد کر کے یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل کو سن کر ان کا حل نکالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بہت سے چینلجز کا سامنا تھا، پیغام پاکستان اس کا حل ہے، وزارت تعلیم نے 15دنوں میں ٹیلی تعلیم کا اجراءکیا،15لاکھ طلباءایک دن میں دیکھتے تھے، خوشی کی بات ہے کہ یونیورسٹیوں نے بھی اپنی مدد آپ کے تحت اقدام اٹھاتے ہوئے آن لائن تعلیم کی طرف گئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ کوویڈ 19کے چیلنج نے دنیا کو بدل کر رکھا دیا ہے،ہمیں اس چیز کے لئے تیار رہنا ہوگا کہ فاصلاتی تعلیم بڑا کردار ادا کرے گی، اعلی تعلیم کے شعبے میں معیاری تعلیم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر سمجھتے ہیں کہ طلباءکی سرگرمیوں کےلئے ایسی تنظیمیں ہونی چاہیے تو غیر نصابی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تنظیموں کے آڑ میں سیاسی نہ ہو، تعلیمی اداروں کو سیاسی چپقلش کی آمجگاہ نہیں بننے دینا، یہ عمل اختیار کریں گے،وائس چانسلر،والدین سمیت تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد یونینز کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی کانفرنس میں انتہا پسندی کی بات کی گئی،اگر تعلیمی اداروں میں انتہا پسندی آگئی تو اس کے بہت سے نقصانات ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سیاست سب کو کرنی چاہیے لیکن اپنی سیاست کی خاطر ملک کے استحکام کو کمزور نہ کیا جائے۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی 100 یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی بلوا کر انھیں پیغام پاکستان پیش کیا ہے، پیغام پاکستان، امن، ہم آہنگی،اخوت، دوسرے مذاہب کی حرمت کا پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے بعد ہر صوبے میں جائیں گے،معاشرے میں امن کے قیام کےلئے یونیورسٹیوں کا کلیدی کردار ادا کرنے کا یہ سفر جاری رہے گا۔
بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ تحقیقات اسلامی پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاءالحق نے کہا کہ پاکستان کی یونیورسٹیاں ملک کو خوشحال اور مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ عمران خان کے ویژن اور قائداعظم کے فرمان سے متعلق اس معاشرہ کی تشکیل نو کے لئے دن رات کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان،پاکستانی قوم کا بیانیہ ہے، ملک بھر کی جامعات نے پیغام پاکستان کو پھیلانے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور آئندہ بھی ایسا ہی کردار جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت تعلیم یکساں نصاب کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ بھی ایک بڑی اہمیت کا حامل کام ہے، نوجوانوں کی سوچ اور فکر کو کو مثبت بنانے کےلئے ملک بھر کے وائس چانسلر وقفے وقفے سے اکٹھے ہوتے ہیں اور آئندہ کے لئے آگے بڑھنے کی راہ متعین کرتے ہیں۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر و چیئرمین وائس چانسلرز کمیٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے وائس چانسلرکنونشن کا مشترکہ اعلامیہ پیش کیا جس میں مسلح افواج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں امن کے فروغ کےلئے معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار سازی میں بھی اپنا کردار ادا کرے گی، جامعات میں فیکلٹی اور طلباءکے درمیان رابطوں کو مزید بہتر بنایا جائے گا، طلباءکے مسائل کے اندارج کےلئے خصوصی ڈائریکٹوریٹ کا قیام عمل میں لایا جائے۔
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ضیاء القیوم نے اپنے گروپ کی مشاورت کے بعد تیار کی گئی شفارشات پیش کیں جن میں کہا گیا کہ اساتذہ کے کردارکی تشکیل نوکی جائے، طلباء کی استعداد کار بڑھائی جائے، یونیورسٹیوں میں اقبال چیئرز کا قیام عمل میں لایا جائے، یونیورسٹیوں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا باقاعدگی سے انعقاد یقینی بنایا جائے، یونیورسٹی کی فیکلٹی کی بھرتی اور پر وموشن کے عمل کا از سر نوجائزہ لیا جائے۔
پروفیسر میاں عمران مسعود نے اپنے گروپ کی شفارشات سے شرکاءکو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یکساں نصاب میں تعلیم کے ساتھ ساتھ متوازن تربیت، مداراس کو قومی دھارے میں لایا جائے، سائبر قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے،سیاسی یونینز کی بجائے یونیورسٹیوں میں نئی نسل کو سوسائٹی اور کلبزکی طرف لیجایا جائے، نیب،اینٹی کرپشن سمیت کسی بھی تحقیقاتی ادارے کوتحقیقات کرنا مقصود ہوں تو وائس چانسلر کے علم میں لایا جائے، یونیورسٹیوں کے سینڈیکیٹس کی تعداد کم کی جائے تا کہ سیاسی دباو نہ ہو۔
بعدازاں وفاقی وزیر نے مختلف یونیورستیز کے نمایاں خدمات انجام دینے والے وائس چانسلرز ودیگر شخصیات میں شیلذز تقسیم کیں۔
ہائیر ایجوکیشن پنجاب پروفیسر افضل خالد، ایس ایس ڈی او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس، قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر و چیئرمین وائس چانسلر کمیٹی ڈاکٹر محمد علی، ڈائریکٹر جنرل آئی آر آئی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر محمد ضیاءالحق کے علاوہ وفاق اور صوبوں کی مختلف یونیورسٹیوں کے 100سے زائد وائس چانسلرز،ڈینز، ریکٹرز اور فیکلٹی کنونشن میں شریک تھے۔
اے پی پی /لاہور/حامد











