پشاور،7 اکتوبر(اے پی پی): خیبر پختونخوا پولیس اور اسلام آباد پولیس کے اعلی پولیس حکام کا کار چوری اور دیگر جرائم کی روک تھام اور کا ر چوری سے موثر انداز میں نمٹنے کے لئے لا ئحہ عمل مر تب کرنے سے متعلق اجلاس سنٹرل پولیس آفس پشاور میں منعقد ہوا جس کی صدرات انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناءاللہ عباسی نے کی ۔اجلاس میں اسلام آباد پولیس اور خیبر پختونخوا پولیس کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔
مشترکہ اجلاس میں بین الصوبائی سطح پر دونوں پولیس ڈیپارٹمنس کو کار چوری کے ضمن میں درپیش مسائل و مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر خیبر پختونخوا اور اسلام آباد پولیس کی مشاورت سے ان سے نمٹنے کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ جو کہ مستقبل میں کارچوری کے واقعات سے بروقت نمٹنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ اجلاس میں دونوں پولیس ڈیپارٹمنس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے مابین قریبی رابطہ رکھنے اور آپس میں انٹیلی جنس کے تبادلے کے لیے بھی حکمت عملی وضع کی گئی۔ اجلاس میں دونوں پولیس ڈیپارٹمنسکے اعلیٰ حکام پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بھی قائم کیا گیا جو چوری شدہ گاڑیوں کے ڈیٹا کے تبادلے اور اس میں ملوث گینگز سے متعلق معلومات اکٹھا کرکے ان سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرے گا۔ اجلاس میں دونوں پولیس ڈیپارٹمنس کے درمیان قریبی رابطوں اور وقتاً فوقتاً مشترکہ اجلاس منعقد کرانے کا سلسلہ آئندہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔جس میں کار چوری کے خلاف اُٹھائے گئے اقدامات کی پیش رفت کا جائزہ لیکر آئندہ کا لائحہ عمل اور ایکشن پلان مرتب کیا جائے گا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں آئی جی پی نے کہا کہ عوام کے جان و مال کی حفاظت اور بروقت انصاف کی فراہمی ہمارے فرائض میں شامل ہے اور کہا کہ جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی روابط اور تعاون وقت کی اہم ضروت ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تمام جرائم بالخصوص چوری کی گاڑیوں کی معلومات کا تبادلہ ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا اور ان جرائم میں ملوث افراد اور منظم گروہوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔











