پشاور، 15اکتوبر(اے پی پی): ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر خیبر میڈیکل کالج پشاور کے سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ کیجانب سے پاکستان سائیکاٹرک سوسائٹی اور خیبر میڈیکل کالج کے سٹوڈنٹ ویلفیر سوسائٹی کے تعاون سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا ، سیمینار کے مہمان خصوصی ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب تھے۔
سیمینار سے خطا ب میں ڈین خیبر میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمود اورنگزیب نے سائیکاٹری ڈیپاٹمنٹ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ میں نو منتخب شدہ چیئرمین کی تعیناتی سے صوبے بھر میں ذہنی صحت اور ٹریننگ میں بہتری لانے میں اہم کردار ادا کرے گا اور سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ کی یہ کاوشیں جاری رہینگی۔انہوں نے کہا کہ اس سال ذہنی صحت کے عالمی دِن کا عنوان “ذہنی صحت سب کے لئے “(Mental Health for all) ہے، جسکا مقصد عوام میں ذہنی صحت بارے شعور پیدا کرنا ہے۔
چیئرمین سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور پاکستان میں ذہنی صحت کے اثرات اور مشکلات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہر سال پوری دنیا میں تقریباً 8لاکھ لوگ خود کشی کرتے ہیں آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ہر 40سیکنڈ کے بعد دنیا میں کوئی نہ کوئی شخص خودکشی کر رہا ہے۔ خودکشی کرنے والوں میں ذیادہ تعداد ان نوجوان لوگوں کی ہے جن کی عمریں 15سے 29 سال تک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی امراض کے مریض باقی بیماریوں کے مقابلے میں 15 سال پہلے مرتے ہیں،ذہنی امراض کی بیماریاں ذہن اور صحت کو بُری طرح متاثر کرتا ہے، پاکستان کی آبادی کا 3/1حصہ ڈیپریشن اور انزائٹی Anxietyکا شکار ہے۔ایک طرف جہاں ذہنی و نفسیاتی امراض بڑھ رہے ہیں تو دوسری طرف ذہنی امراض کے سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھی بہت ذیادہ کمی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے کہا کہ عالمی سطح پر جہاں 10 ہزار افراد کے لئے ایک سائیکاٹرسٹ کی ضرورت تجویز کی گئی ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں 222ملین آبادی کے لئے صرف 500سائیکاٹریسٹ موجود ہیں۔ جو انتہائی نامناسب ہے۔ مزید تشویش کی بات ہے ہے کہ ہمارے بچے جو قوم کا مستقبل ہیں اُن کے لئے پورے پاکستان میں صرف تین یا چار مستند چائیلڈ سائیکاٹرسٹ کی سہولت موجود ہیں۔
پاکستان سائیکاٹری سوسائٹی کے صوبائی صدر اور اسسٹنٹ پروفیسر سائیکاٹری ڈیپارٹمنٹ خیبر میڈیکل کالج ڈاکٹر عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے ملک میں ایک فیصد سے بھی کم بجٹ ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحت سہولت کارڈ کی سہولت بھی ذہنی امراض کے بیماریوں پر لاگو نہیں ہیں۔ہم حکومت خیبر پختونخوا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ذہنی بیماریوں کو بھی صحت سہولت کارڈ میں شامل کیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ذہنی بیماریوں پر 1 ڈالر خرچ کرنے سے 10ڈالر کمایا جاتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ بہتر سہولیات کے نتیجے میں اوسط عمر میں اضافہ ہو ا ہے اور اس کی وجہ سے بزرگ لوگوں کی تعداد پاکستان میں بھی روزبروز بڑھ رہی ہیں ۔ان بزرگ لوگوں کی ذہنی صحت کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ بھول پن کی بیماری پے قابو پایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح (Forensic Psychiatry)کی سہولتیں بھی ہمارے پاس موجود نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مریض جو بیماری کے وجہ سے کسی جرم کا ارتکاب کر چکے ہوں عدالت اگر اُن کو جرم سے بری بھی کر دیں وہ پھر بھی جیلوں میں بند رہتے ہیں کیو نکہ ان کی بحالی (Rehabilitation)نہیں ہو سکتی اور ان کو جیل سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انتہائی تشویشناک صورت حال ہے ۔











