اپنے انجام سے خوفزدہ اپوزیشن اپنی بقا کی آخری جنگ لڑرہی ہے: شہریار آفریدی 

87

 

اسلام آباد،19اکتوبر  (اے پی پی):چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے  گزشتہ تین دن سے سیاسی سرکس لگایا ہوا ہے،بدقسمتی سے کشمیر جیسے حساس موضوع کا بھی ذاتی مفادات کے لئے  استعمال کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم عمران خان کی کاوشوں کے باعث ایک نہیں 3 بار اقوامِ متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا گیا، محض کشمیریوں کی قربانیوں اور عمران خان کی وکالت کے سبب آج کشمیر عالمی فورمز میں بڑا  مسئلہ بن چکا ہے،اپنے انجام سے خوفزدہ اپوزیشن اب اپنی بقا کی آخری جنگ لڑرہی ہے۔

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام سے مسترد کئے جانے اور عدالتوں سے سزا پانے کےبعد اب اپوزیشن ملک کو ترقی کی راہ سے ہٹانے کیلئے سڑکوں پر آ نکلی  ہے،  اس بار بھی شکست ا ن کا مقدر ہے۔

شہریار آفریدی نے کہا کہ  مولانا فضل الرحمان دس سال کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے مگر انہوں نے کشمیر کو کبھی کسی فورم پر نہیں اٹھایا۔ مولانا فضل الرحمان کی بدترین کارکردگی کے باوجود نواز لیگ اور پیپلز پارٹی نے کشمیر کمیٹی کو سیاسی رشوت کے طور پر استعمال کیا۔ان تین جماعتوں نے چالیس سے پچاس سال ملک پر حکومت کی اور کشمیر کو سرد خانے میں ڈالے رکھا۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی کے لئے مختص 473.510 ملین کی رقم میں تنخواہیں اور گزارشات شامل ہیں۔اس رقم کا استعمال چیئرمین کشمیر کمیٹی کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے کیا جاتا ہے تاکہ وہ مؤثر طریقے سے کام کرسکیں۔مولانا فضل الرحمان کے دس سالہ دور حکومت میں 472.510 ملین کی لاگت سے صرف 62 پریس ریلیز جاری کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس قوم نے ہر پریس ریلیز کے لئے 76 لاکھ کی قیمت ادا کی، مولانا فضل الرحمان نے دو ماہ میں ایک پریس ریلیز جاری کی، دس سالوں میں دو بار مولانا فضل الرحمان کی ضرورت پڑی تب بھی وہ کشمیر کمیٹی کو میسر نہیں آئے، مجبوراً اعجاز الحق کو برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیریوں کے قتل عام پر لابنگ کیلئے پارلیمانی وفد کی قیادت کرنا پڑی۔

 شہریار آفریدی نے کہا کہ  قوم نے مولانا کو برقرار رکھنے کے لئے 47 کروڑ کی بھاری قیمت ادا کی۔ٹی او آرز انجام دینا ان کا فرض تھا۔تاہم قوم نے مولانا کو برقرار رکھنے کے لئے 47 کروڑ کی بھاری قیمت ادا کی۔چیئرمین کا فرض ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر کے لئے لابنگ کرکے نئی راہیں تلاش کرے۔

 انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے مفرور نواز شریف کی آزادی رائے سے متعلق فکرمند ہے لیکن وہ مقبوضہ کشمیر میں سوا سال سے جاری انٹرنیٹ لاک ڈاؤن پر خاموش ہیں۔جب ایک طرف ہمارے فوجی شہادتیں دے رہے ہیں ، نواز شریف بھارتی افواج کی مذمت تک نہیں کرسکتے،انہیں اپنے ذاتی مفادات کشمیر سے زیادہ عزیز ہیں۔

چیئرمین کشمیر کمیٹی نے  مزید کہا  کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر پر دلیرانہ تقریر کرکے عالمی ضمیر کو جھنجوڑا تھا، اقتدار کے حصول کیلئے چند مفادپرستوں کی اس ٹولی نے گزشتہ سال بھی یہی تماشہ اسلام آباد کی سڑکوں پر لگایا تھا۔