اسلام آباد،19اکتوبر (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی سے حزبِ اسلامی افغانستان کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے وفد کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی حکومت، پارلیمان اور عوام افغانستان کے ساتھ دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ پاک۔افغان تعلقات مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی مماثلتوں پر مبنی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے باہمی تعاون کو اقتصادی و پارلیمانی روابط کے ذریعے مستحکم کرنے کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن اور خوشحال افغانستان پاکستان کے وسیع تر قومی مفاد میں ہے، پاکستان افغان عمل کی حمایت کرتا ہے، پاکستان کی جانب سے افغان امن عمل اور مذاکرات کی حمایت کو افغان حکومت اور بین الاقوامی برادری نے بھی تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور افغان مذاکراتی عمل ایک تاریخی موقع ہے، افغان قیادت اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر مسئلہ کا سیاسی حل تلاش کرے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ امن مذاکرات میں سب کو شامل ہونا چاہے تاکہ تمام افغان اس امن عمل کی اونر شپ لیں اور مسئلے کے حل کا حصہ بنیں، پائیدار اور دیر پا امن کیلئے سب کا شامل ہونا ضروری ہے، پاکستان افغانستان کی بحالی اور ترقی کیلئے حمایت جاری رکھے گا۔
ملاقات میں عوامی سطح پر روابط کے فروغ کے حوالے سے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عوامی سطح پر روابط پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتے ہیں، پاکستان تعلیم، صحت اور فضائی رابطوں کی سہولت کیلئے بھی اقدامات اٹھا رہا ہے۔ پاکستان نے4 ہزار طلباءکو سکالر شپ کے ذریعے مختلف جامعات میں داخلے دیئے ہیں۔
اقتصادی تعلقات و رابطہ کاری پر بات چیت کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کیلئے دونوں ملکوں کوموجودہ استعداد کا بھر پور استعمال کرنا ہوگا۔تجارتی و اقتصادی تعاون دیر پا تعاون کیلئے اہم سنگ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کرونا وبا کے دوران دوطرفہ تجارت کیلئے پاک افغان سرحد کو خیر سگالی جذبے کے تحت کھولا گیا ہے۔ مہاجرین کے حوالے سے تاریخ پر نظر ڈالتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی،پاکستان تمام افغان مہاجرین کی باعزت واپسی پر یقین رکھتا ہے۔











