چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی زیر صدارت ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی دفاعی پیداوار کا اجلاس

276

اسلام آباد۔28اکتوبر  (اے پی پی):ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی دفاعی پیداوار نے  امریکہ بھارت کے مابین  بنیادی تبادلہ تعاون معاہدہ(بی ای سی اے) کے تحت  میزائل حملے کے لئے امریکی ڈیٹا کے استعمال  کے نئے معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ  یہ معاملہ  عالمی سطح پر امریکی حکومت  بالخصوص  کانگریس کے سامنے اٹھایا جائے تا کہ کانگریس   پاکستان کے تحفظات کا احترام کرتے ہوئے اس غلط فیصلے کو واپس لے ، یہ قرار داد قائمہ کمیٹی نے اتفاق رائے سے منظور کر لی ۔ایوان بالا کی  قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار  کا اجلاس بدھ کو چیئرمین کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔   اجلاس میں ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کی پیشرفت ، بزنس ڈویلپمنٹ پلانز اور ریسرچ پروجیکٹس کی تفصیلات سے متعلق آگاہ کیا گیا ۔ اجلاس میں سینیٹرنزہت  صادق ، سینیٹر مشاہد حسین سید ، سینیٹر نعمان وزیر خٹک ، سینیٹر محمد اکرم ، سینیٹر انور لال دین ، سینیٹر پرویز رشید ، سینیٹر عبدالغفور حیدری  اور وزارت دفاعی پیداوار کے اعلی افسران نے شرکت کی ۔چیئرمین کمیٹی ، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر)عبد القیوم نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے مابین بیسک ایکسچینج تعاون معاہدہ (بی ای سی اے) کا سخت نوٹس لیا جس پر بھارت میں حال ہی میں دستخط ہوئے تھے۔ بی ای سی اے ہندوستان اور امریکہ کو جغرافیائی معلومات کو شیئر کرنے ، فورسز کی باہمی تعاون اور مسلح ڈرونز کے حصول کی اجازت دے گا۔  چیئرمین کمیٹی ، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبد القیوم نے کہا کہ یہ معاہدہ علاقائی تسلط قائم کر نے کے لئے  ہندوستانی عزائم کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرے گا  اور اسٹریٹجک علاقائی توازن کو غیر مستحکم کرے گا۔ اس ضمن میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (ایچ آئی ٹی) کے کام اور پیشرفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس انٹرپرائز کا مقصد بکتر بند گاڑیوں کی تیاری ، تعمیر نو ، اپ گریڈ اور کیری آؤٹ کرنا ہے۔ ایچ آئی ٹی کی تین حصوں میں درجہ بندی  کی جاسکتی ہے جس  میں ں مینوفیکچرنگ فیکٹریاں ، تعمیر نو پلانٹ اور مدد کی سہولیات شامل ہیں۔ مینوفیکچرنگ یونٹوں میں ٹینک اور بندوق تیار کرنے کی سہولیات اور بکتر بند گاڑیاں  (اے پی سی) شامل ہیں۔ ٹینک مینوفیکچرنگ کی سہولت کو متعدد تیسری نسل کے آٹو ٹریکنگ ٹینکوں کا اعزاز حاصل ہے  ، یہاں پر  ٹینک الخالد ، اور دیگر ٹینکس کامیابی کے ساتھ تیار  ہوا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نائٹ جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے والے VT-4 ٹینک کو جلد ہی شامل کیا جائے گا۔ ایچ آئی ٹی کی اے پی سی کی سہولت اسٹیٹ آف دی آرٹ کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (سی اے ڈی) کا استعمال کرتے ہوئے بکتر بند کیریئر کا M113  تیار کیا جارہا ہے ۔ گن مینوفیکچرنگ  کے شعبہ میں فیکٹری ٹینک بیرل اور مکمل ٹینک گن تیار ہوتا ہے ،آرٹلری گن بیرل کے لئے تیاری  میں  سہولیات  بڑھائی ں جارہی  ہیں ۔ ہیوی ری بلڈ فیکٹریوں میں  تعمیر نو پلانٹس میں ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو جدید اور اپ گریڈ کرنے کئے ڈیزائن تیار کیے جاتے ہیں ۔  ایڈوانس سسٹم ریبلڈ فیکٹری ایچ آئی ٹی کے ٹینک کی تعمیر نو کے مشن  کو آگے بڑھانے کے ساتھ ساتھ  فائر کنٹرول سسٹمز ، آپٹراکس اور تھرمل امیجنگ کے شعبے میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ میں بھی مدد کرتی ہے ۔ایچ آئی ٹی کے  تجارتی اور کاروباری منصوبوں سے متعلق بتایا گیا کہ  اپنے آغاز سے ہی  ایچ آئی ٹی  نے مختلف تجارتی سرگرمیوں میں حصہ لیے۔ پچھلے پانچ سالوں کے دوران ایچ آئی ٹی نے اپنے بزنس پلان کے ذریعے آمدن حاصل کرنے کے بعد 1.18بلین  کاٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا ،  اس کے علاوہ ، پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تجارتی مصنوعات کی فروخت کے ذریعے ایچ آئی ٹی کے ذریعے 9.21ارب کی بچت کی ۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ  پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مشین اوقات کو بڑھا کر کامیابی حاصل کی گئی ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا  کہ  مارگلہ ہیوی انڈسٹریز لمیٹڈ کی ایک تجارتی کمپنی ہے جو  ستمبر 2020 میں ایس ای سی پی کے ساتھ رجسٹرڈ ہ ئی ،نومبر میں یہ کمپنی مکمل آپریشنل ہوجائے گی ۔چیئرمین کمیٹی ، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل عبد القیوم نے ایچ آئی ٹی کی یپداواری صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم میں ترقی کی بڑی صلاحیت ہے۔  انہوں نے کہا کہ  بین الاقوامی افق کی طرف بڑھنے کے لئے ایچ آئی ٹی کو  کوششیں تیز کرنا  ہوں گی ،  اس سے دفاعی بجٹ کو سبسڈی دینے والے ملک کو بہت فائدہ ہوگا۔ انہوں نے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی  کے لئے بورڈ مارکیٹنگ کے ماہرین کی خدمات حاصل کریں ۔