گلگت،07 دسمبر (اے پی پی): وزیر اطلاعات،منصوبہ بندی ،ترقی گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے کہا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ رکھ کر گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کے لیے اصولی فیصلہ ہو چکا ہے،اب اس میں کوئی ابہام نہیں رہا۔اب یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں جائے گا، وہاں سے پاس ہونے کے بعد صوبہ بن جائے گا۔
پیر کو یہاںسینٹرل پریس کلب گلگت میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئےانہوں نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت سے مل کر سابقہ اور موجودہ تمام سکیموں پر کام دوبارہ زور و شور سے جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان دنیا کا سب سے نڈر، بیباک ،انصاف پسند سیاست دان ہیں ۔ خالد خورشید بھی میرے بڑے بھائی ہیں اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بنے ہیں،مجھے جو وزارتیں دی گئیں ہیں اس پر میں مطمئن اور خوش ہوں اور خالد خورشید کی قیادت میں گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے بھر پور کام کروں گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی ترقی کے لیے بیوروکریسی سے ملکر کام کریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف میں ورکرز کو حقیقی معنوں میں اہمیت دی جاتی ہے۔وفاقی حکومت کے جو منصوبے صوبے کے لئے منظور ہوتے ہیں ان کا ٹینڈر اصولی طور پر اسلام آباد میں ہی ہوتے ہیں،اب ہماری کوشش ہوگی کہ یہ ٹینڈرز بھی گلگت میں ہوں تاکہ یہاں کے لوگوں کو آسانی ہو۔
دو نیشنل پارکس میں ایف سی اہلکاروں کی تعیناتی کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی حدوں سے باہر ایک بھی اہلکار ابھی تک نہیں آ یا۔اس حوالے سے اخبارات میں جو خبر چھپی اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں اس وقت آ ٹے کا شدید بحران ہے اس کو حل کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں اس وقت بجلی کا شدید بحران ہے جس کو حل کرنے کےلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں گے۔











