پشاور، 7دسمبر(اے پی پی): صوبائی الیکشن کمشنر، خیبرپختونخوا شریف اللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان، خیبر پختونخوا میں آئیندہ بلدیاتی انتخابات کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں انتخابی فہرستوں کی اپڈیٹ، سمیت پولنگ سٹاف کی تقرریوں اور انتخابی مواد کی تیاری آخری مراحل میں ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج پشاور میں قومی ووٹرز ڈے کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کے دوران کیا۔
صوبائی الیکشن کمشنر نے کہا کہ ملک میں انتخابی عمل اور ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہر سال ۷ دسمبر کو ووٹروں کے قومی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا تا کہ قوم کو ووٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جاسکے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جمہوری عمل میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں لوگوں میں انتخابات سے متعلق آگاہی اور آئیندہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی شرح بڑھانے کے لئے آگاہی مہم جاری ہے تاکہ عوام اور ووٹروں کو ووٹ کے اندراج اور حق رائے دہی کے استعمال کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ شریف اللہ نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا سمیت ملک بھر میں انتخابی فہرستوں کی تجدید کا کام اکتوبر 2020 میں مکمل کیا جس میں ایسے تمام افراد جنہوں نے نادرا سے نئے شناختی کارڈ حاصل کیے تھے ان کے ووٹوں کا اندراج ان کے گھر گھر جا کر تصدیق کرکے کیا۔
اس کے مطابق خیبرپختونخوا میں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد 1کروڑ 95لاکھ 33ہزار 9سو64ہے۔ جس میں مرد ووٹروں کی تعداد 1کروڑ 10لاکھ76ہزار6سو30اور خواتین ووٹروں کی تعداد 84لاکھ57ہزار2سو1ہے۔ اس کے علاوہ 133 خواجہ سراء بھی بطور ووٹر رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مرد اور خواتین ووٹرز کے مابین تقریبا 26لاکھ کا فرق سامنے آیا ہے جس کو کم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے نادرا اور سول سوسائٹی کے ساتھ مشترکہ طور پر Women NIC & Voter Registration Campaign شروع کیا ہے۔جس کے تحت خواتین کے شناختی کارڈ بنوانے کے لئے نادرا کی جانب سے موبائیل رجسٹریشن وین فراہم کیا جارہا ہے۔
انہوں نے تمام سٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ اس قومی فریضہ میں تعاون کریں تاکہ خیبرپختونخوا میں کوئی خاتون ووٹ کے اندراج سے محروم نہ رہے اور آنیوالے بلدیاتی عام انتخابات میں شرح ووٹ میں اضافہ ہو۔
اس سے پہلے جائینٹ صوبائی الیکشن کمشنر، خیبر پختونخوا نے اپنے خطاب میں بتایا کہ گذشتہ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 55فی صد رہی۔ اور اس میں مزید اضافے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے حوالہ سے متعلق کہا کہ صوبے کے 28اضلاع میں ویلیج اور نیبرہڈ کونسلوں کی حلقہ بندیاں مکمل ہوچکی ہے اور صوبائی حکومت کیجانب سے ڈویژنل ہیڈکوارٹر اضلاع جن میں پشاور، مردان، سوات، ایبٹ آباد، کوہاٹ، بنوں اور ڈی آئی خان شامل ہیں، میں سٹی کونسل کے قیام سے متعلق قانونی تقاضے پوری ہوتے ہی وہاں بھی حلقہ بندیوں کا کام شروع کیا جائیگا۔
ہارون شینواری جائینٹ صوبائی الیکشن کمشنر نے مزید بتایا کہ ووٹر آگاہی مہم کے سلسلے میں پشاور کے بڑے تعلیمی اداروں میں سیشن منعقد کئے گئے جس میں 6ہزار سے طلبہ و طالبات کو ووٹ کی اہمیت کے بالخصوص محروم طبقات کے بطور ووٹر اندراج اور شرح ووٹ بڑھانے سے متعلق تربیت دی گئی اور موقع پر تقریبا 500طلبہ و طالبات رضاکار رجسٹرڈ ہوئے اور ان کو تربیت دی گئی۔ محروم طبقات کے انتخابات سے متعلق مسائل حل کرنے کیلئے خیبر پختونخوا کا جینڈر اینڈ ڈسیبلٹی گروپ بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈائریکٹر الیکشن خوشحال زادہ نے بھی اسی دن کی مناسبت سے خطاب کیا۔ اور ووٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ عوام میں ووٹر آگاہی مہم میں الیکشن کمیشن کا ساتھ دیں۔ شرکاء کو اس موقع پر ووٹر آگاہی مہم کے حوالہ سے خصوصی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔
اس تقریب میں سابق صوبائی الیکشن کمشنر سندھ محمد یوسف خان خٹک، جائینٹ صوبائی الیکشن کمشنر، ہارون خان شینواری سمیت جملہ افسران نے شرکت کی۔











