وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ، پنجاب آئی ٹی بورڈ اور خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط

235

پشاور، 23دسمبر(اے پی پی):  وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی ضیاء اللہ بنگش نے کہا ہے کہ کوہاٹ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سوات کا انتخاب  نیشنل اینکوبیشن سنٹر کے لئے کیا گیا ہے جبکہ کے پی آئی ٹی بورڈ اور پنجاب آئی ٹی بورڈ انفارمیشن سیکیورٹی کے شعبے میں ایک دوسرے کی معاونت کرینگے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبرپختونخوا آئی ٹی بورڈ، پنجاب آئی ٹی بورڈ اور خیبرپختونخوا کی یونیورسٹیوں کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر دستخط کرنیکی تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

اس یادداشت کے تحت خیبرپختونخوا کے دو اضلاع میں نیشنل اینکوبیشن سنٹر جبکہ تین اضلاع میں نیشنل فری لانس ٹریننگ سنٹر بنائے جائینگے۔ سوات اور کوہاٹ میں اینکوبیشن سنٹر جبکہ پشاور، لوئر دیر اور ڈی آئی خان میں فری لانس سنٹر قائم کئے جایئنگے اور مالاکنڈ یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی اور انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ سائنسز پشاور میں فری لانس سنٹر بنائے جایئنگے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ منصوبوں کی توسیع وفاقی حکومت اور پنجاب آئی ٹی بورڈ کی معاونت کی جارہی ہے جن سے خیبرپختونخوا کے ہزاروں نوجوان مستفید ہونگے۔

ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ خیبرپختونخوا آئی ٹی کے شعبے میں تیزی سے ترقی کررہا ہے اور ہم نے مل کر نوجوانوں کو تربیت یافتہ کرنا ہے کیونکہ ہم نوجوانوں کو مستقبل کے لئے تیار کررہے ہیں۔تقریب میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے آئی ٹی ضیاء اللہ بنگش، وفاقی سیکرٹری برائے آئی ٹی، بورڈز کے عہدیدار اور یونیورسٹیوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔